خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 163

خطابات طاہر جلد دوم 163 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کر لیا پہلے صباح الدین کو ربڑ کے جوتوں سے بہت مارا پھر مجھے بلالیا اور کہا کان پکڑ لو۔کوئی دس منٹ تک میں کان پکڑے رہا۔پھر بوجہ ہرنیاں میری ماؤف جگہ پھول گئی تو میں نے سب انسپکٹر کو بتایا کہ مجھے ہر نیاں ہے جس طرح تم مجھے کان پکڑائے ہوئے ہو اس سے میرا ہر نیاں پھول کر پھٹ سکتا ہے میں وہاں زیرلب درود پڑھ رہا تھا کہ ایک سپاہی نے مجھے کہا کہ تم مجھے گالیاں دے رہے ہو اور یہ کہہ کر مجھے مکوں سے مارنا شروع کر دیا اور جب تھک گیا تو ہمیں حوالات میں بند کر دیا۔رات کو دو شرابیوں کو پکڑ کر لائے اور ان کو مارنا شروع کر دیا، ساتھ ہی دوبارہ ہمیں بھی ربڑ کے جوتوں سے مارنے لگے۔صباح الدین کو تو دو ہی مارے اور مجھے چھ سات مارے۔جس سے میرے تمام جسم پرنشان پڑ گئے۔ایک بار جب ہم نے اذان دی تو ایک سپاہی نے آکر اتنی گندی گالیاں دیں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔۲ اگست کو ہمیں سیالکوٹ جیل میں منتقل کر دیا گیا اور چکی کی مشقت پر لگا دیا۔ایک معلم وقف جدید لکھتے ہیں کہ السلام علیکم کہنے کے جرم میں تحفظ ختم نبوت والوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گیا اور پھر بے ہوشی کی حالت میں مجھے تھانے پہنچایا گیا جہاں میرے خلاف C-298 کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔آج آٹھ دن کی قید کے بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر آیا ہوں۔احمدی طلباء باوجودان شدید مشکلات کے جہاں تک جماعت کی ذمہ داریوں کا تعلق ہے ان میں بھی بھر پور حصہ لے رہے ہیں اور باوجود اس کے بعض دفعہ امتحانات کے تقاضے ایسے ہوتے ہیں کہ طالب علم ایک منٹ بھی اپنی تعلیمی مصروفیات سے الگ نہیں ہو سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان بھر میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے طلبا ادھر ان مصیبتوں میں سے گزرتے ان دل شکنیوں سے دلوں کو پارہ پارہ ہوتے ہوئے دیکھتے اور محسوس کرتے اور پھر جماعتی ذمہ داریوں کو بڑے حوصلے کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔لاہور سے ایک طالب علم لکھتے ہیں یہاں دار الحمد کے خدام بڑی محنت اور جذبے سے جو بھی ڈیوٹی ان کے ذمہ لگائی جاتی ہے ادا کر رہے ہیں۔اپنے امتحانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جس وقت بھی اور جہاں بھی بلایا جاتا ہے حاضر ہو جاتے ہیں۔ایسے بھی کچھ خدام ہیں جن کا صبح پیپر ہوتا ہے اور وہ ساری ساری رات ڈیوٹیاں ادا کرتے ہیں آپ ہم سب کیلئے خصوصی دعا کریں۔ایک بہن اپنی بہن کے متعلق لکھتی ہے کہ اس بیچاری کے خاوند کی فوٹو گرافی کی دکان تھی اس