خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 161
خطابات طاہر جلد دوم 161 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء دکھوں کو دعاؤں میں تبدیل کرتا ہے، مجھے ہنسنے کی توفیق بخشتا ہے، مجھے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ باہر نکلنے کی توفیق بخشتا ہے، مجھے ان تمام فرائض کو سرانجام دینے کی توفیق بخشتا ہے جو میں سمجھتا تھا کہ میری توفیق سے بہت بڑھ کر ہیں لیکن اپنے فضل سے اللہ تعالی اس توفیق کو بڑھاتا چلا جارہا ہے۔اتنے کثرت کے ساتھ طالب علموں کے خطوط آتے ہیں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔چھوٹے چھوٹے دوسری تیسری میں پڑھنے والے بچوں سے لےکرایم۔اے کے طالب علم تک پی۔ایچ۔ڈی کرنے والے سب کے ماحول جاہلانہ ہیں۔کوئی ایک جگہ بھی نہیں آج پاکستان میں ایک تعلیمی ادارہ بھی ایسا نہیں خواہ وہ کسی مرتبے اور کسی مقام کا ہو جس کے متعلق انسان کہ سکتا ہو کہ یہ تہذیب کا گہوارہ ہے ہر جگہ جہالت دکھائی دیتی ہے اور احمدی طلباء سے روزانہ ایسا تذلیل کا سلوک کیا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی اور قوم ہوتی تو یقینا صبر کا پیمانہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا۔وہ بار بار ہمیں لکھتے ہیں کہ اگر عام حالات میں ، دنیاوی حالات میں ہم سے یہ سلوک ہوتا تو ہم ہرگز اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے اور اپنی عزتوں کا بدلہ لیتے لیکن آپ کا ہمیں حکم ہے کہ صبر سے کام لو اس لئے ہم صبر سے کام لیتے چلے جاتے ہیں لیکن کب تک۔یہ سوال کب تک کا پہلے کم اٹھا کرتا تھا اب روز بروز زیادہ اٹھتا چلا جارہا ہے اور بعید نہیں کہ یہی سوال متى نصر الله (البقرہ: ۲۱۵) کی آواز آسمان تک پہنچے اور آسمان کے کنگرے ہلا دے۔پس ہمارا تو کل خدا کی ذات پر ہی ہے۔میں ان سب مسکین اور بے بس طالب علموں سے کہتا ہوں کہ اپنے کاموں میں مصروف رہو خدا کی خاطر اور برداشت کرتے چلے جاؤ، برداشت کرتے چلے جاؤ ، صبر کے نمونے دکھاؤ کیونکہ خدا تعالیٰ صبر کرنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔اس کے ہاتھ میں دنیا کی تقدیریں ہیں کوئی انسانی تقدیریں خدا کی تقدیروں کو تبدیل کر نہیں سکتیں۔لیکن ایک دن ایسا ضرور تم دیکھو گے کہ خدا کی وہ رحمتیں جو تمام دنیا پر برس رہی ہیں ایک دن گھنگھور گھٹاؤں کی طرح تم پر بھی برسیں گی اور تمہیں بھی سرتا پا سیراب کر دیں گی اور خدا کے فضلوں کو تم اپنی آنکھوں سے برستا ہوا دیکھو گے۔اس یقین پر قائم رہو اور صبر پر قائم رہو تو دنیا تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکے گی۔میں نے تو صرف دو تین خطوط چنے ہیں ایک طالب علم لکھتا ہے جو چھوٹی عمر کا بچہ ہے آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے کہتا ہے پیارے آقا ! جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے ہماری مسجد کے بالکل عین مشرق میں چند گز کے فاصلے پر ایک مسجد ہے۔اس کا مولوی ہر وقت ہر روز حضرت