خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 48

خطابات طاہر جلد دوم 48 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء چونکہ تفصیلات میں چھوڑ رہا ہوں وقت کے لحاظ سے ، اس لئے آپ کو یہ نہیں اس وقت پتہ لگ سکتا کہ اس میں ملک وار کس کس کا کتنا حصہ ہے۔نمایاں ملک بہر حال خدمت میں انگلستان ہے، مغربی جرمنی ہے، امریکہ ہے اور خلیج کے ممالک ہیں اور پاکستان اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کراچی اوّل ہے اور ربوہ دوم ہے اور راولپنڈی اور اسلام آباد اور لاہور کے درمیان مقابلہ ہے کہ کون اول ہے، رقم کے لحاظ سے تو بہر حال لاہور آگے ہے مگر جو حیثیت اور توفیق ہے اس کے مطابق میں نہیں کہہ سکتا کہ لاہور آگے ہے یعنی راولپنڈی اور اسلام آباد نے بھی حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کیا ہے اور جو قربانی کے واقعات ہیں وہ تو اتنے عظیم الشان ہیں کہ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ وہ جس شخص کو روزانہ ان کو پڑھنا پڑتا ہوگا اس دل کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ایسے حیرت انگیز واقعات ہیں کہ دنیا میں کوئی قوم آج ایسی نہیں ہے جو آپ کا لِلہ قربانی میں کسی رنگ میں بھی مقابلہ کر سکے۔آپ تنہا ہیں اس میدان میں، اکیلے ہیں نمایاں ہیں اور یہ تو فیق یہ اعزاز آپ کو احمدیت کی وابستگی سے نصیب ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں پڑ کر ہم نے محمد مصطفی نے کے قدموں میں پڑنے کے مزے لے لئے اور ہمیں کہتے ہیں ان قدموں کو چھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کے فضل بھی ساتھ ساتھ نازل ہوتے ہیں۔بکثرت ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ جی میں نے قربانی کرنے کی خاطر کام کیا، یہ عزیز چیز چھوڑی اور دیکھتے دیکھتے خدا نے مجھے شرمندہ کر دیا۔اس قربانی کے بدلے اتنا انعام کر دیا دنیا کے لحاظ سے بھی اور ملتا جلتا انعام کہ مجھے یقین ہو جائے کہ یہ خدا نے اس قربانی کا بدلہ دیا ہے۔یہ واقعات اس کثرت سے ہوئے ہیں کہ کوئی معقول آدمی جو ان کا مطالعہ کرے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اتفاقی حادثات ہیں۔واقعات میں سے ایک نمونہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک ہمارے مربی سلسلہ ہیں ان کی شادی ہوئی تھی یا ویسے ان کو شوق آیا تھا گرم سوٹ سلوانے کا اور تین سو روپے ان کے پاس تھے جو سلائی کے لئے اتنے ہی بنتے تھے۔جب تحریک ہوئی تو انہوں نے کہا سوٹ دیکھے جائیں گے خدا تعالیٰ نے زندہ رکھا، تو فیق دی تو دیکھ لیں گے۔وہ تین سو روپے فوری طور پر یورپین مراکز کے لئے پیش کر دیئے اور چند دن کے اندر اندر امریکہ سے ان کے رشتے داروں میں سے کسی نے ایک نہایت خوبصورت کوٹ ان کو بھجوایا جو اس کپڑے کے مقابل پر اور اس سوٹ کے مقابل پر جو انہوں نے بنانا