خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 47

خطابات طاہر جلد دوم 47 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء انسانی رہائش کے قابل بنایا جا سکے ناممکن ہے۔کئی سال سے بند بوسیدہ حالت میں پڑا ہوا ایک سکول۔جو کئی سال پہلے بند کیا جا چکا تھا بد بوئیں، گندگی سالہا سال سے بند فضا کی وجہ سے ایک ہمک اور بہت بُرا حال تھا بیچاری جگہ کا تو اس نے کہا میں تو تیاری کر کے آیا تھا کہ یہ اعتراض کروں گا، یہ اعتراض کروں گا۔میں تو حیران رہ گیا ہوں مجھے بتاؤ یہ وہی جگہ ہے؟ پہچانا نہیں جاتا تھا ان سے۔جو کارکنان ہیں ان کے اسماء اس کی ایک فہرست ہے میں انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کو کہوں گا یہ بعد میں شائع کریں گے، یہ پوری ایک سال کی جو تاریخ ہے ہماری یہ بڑی خاص تاریخ ہے، بڑے پیار سے یا درکھنے کے لائق تاریخ ہے۔اتنے فضل خدا کے نازل ہوئے ہیں اس میں کہ آپ حیران ہو جائیں اگر ان کا سارا ذکر سنیں لیکن میں تو صرف چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں، یہ اسماء بھی انشاء اللہ اس میں چھپ جائیں گے۔یہ جو یورپین مرکز کے لئے میں نے تحریک کی تھی دو مراکز کے لئے ان میں سے ایک کا پھل یہ اسلام آباد ہے اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے جو قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک بہت ہی عظیم الشان مظاہرہ ہے تھوڑے ہی عرصے میں دوسرے تمام بوجھوں کے علاوہ بہت سے چندوں میں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حصہ لے رہی ہے بعض مقامی کاموں میں عام چندوں کے علاوہ حصہ لیتی ہے۔امریکہ مشن ہے مثلاً وہاں کے مقامی بہت سے کام تھے اور مختلف جماعتوں کے سپر د میں نے کام ایسے کئے ہوئے ہیں کہ عام چندوں کے علاوہ ان پر بوجھ ہیں، ان کو میں جانتا ہوں لیکن اس کے باوجود تھوڑے ہی عرصے میں 2,103,67,640 روپے کے جماعت احمدیہ نے وعدے بھی کئے اور ادائیگی بھی کی ، ادائیگی کم و بیش اتنی ہو چکی ہے اور بہت سے احمدی خواتین کے زیورا بھی پڑے ہوئے ہیں لکھوکھا کے جن کو ابھی ہم فروخت نہیں کر سکے اور بہت سی رپورٹیں ہیں جو ابھی اس میں شامل نہیں ہوئیں۔چنانچہ شاید ہی کوئی دن ایسا ہوتا ہو جبکہ نئے چندے کی رپورٹیں مجھے نہ ملتی ہوں دنیا سے مختلف خط لکھنے والے، خط لکھنے والے یا کوئی اور قربانی کا مظاہرہ نہ دیکھتا ہوں۔آج صبح آنے سے پہلے میں دفتر گیا تا کہ جو فوری نوعیت کے کاغذات ہیں کم سے کم وہ تو میں ابھی دیکھ لوں، تو وہاں ایک پوری ڈھیری جو گٹھری بنی ہوئی پڑی تھی تو میں نے دیکھا تو وہ سارے زیورات تھے جو خواتین نے باہر سے بھجوائے تھے وہ ابھی اس میں شامل نہیں ہیں۔