خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 49
خطابات طاہر جلد دوم 49 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء تھا اس سے کوئی بیسیوں گنا زیادہ خوبصورت اور دلکش تھا۔ایک انگوٹھی ایک عورت نے دی اور مجھے لکھا کہ مجھے یہ بڑی پیاری تھی اور میں نے ذرا سا تذبذب کیا، پھر میں نے کہا نہیں خدا کی خاطر دینی ضرور ہے اور عجیب بات ہوئی کہ میں فلاں جگہ پہنچی تو میری فلاں بہن نے ایک نہایت پیاری انگوٹھی میری انگلی میں پہنادی، میں فلاں جگہ پہنچی تو ایک اور بہن نے ایک اور انگلی میں پہنادی۔انہوں نے کہا کہ اب میری ایک بھی انگلی خالی نہیں ہے، اس ایک انگوٹھی کے بدلے آٹھ انگلیوں میں اب انگوٹھیاں ہیں خدا کے فضل کے ساتھ میں تو ان کو دیکھتی ہوں اور اللہ کی رحمتوں کو یاد کرتی ہوں۔ان گنت مثالیں ہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کی کہ نقد نقد انعامات پر انعامات کرتا چلا جاتا ہے اور بتاتا ہے کہ انتُمُ الْفُقَرَآءُ تم فقیر ہو ہم تمہارے محتاج نہیں ہیں۔جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے چونکہ ہماری تبلیغ کو نا کام بنانے کی کوشش کی گئی تھی اس لئے فوری طور پر اس کام کی طرف توجہ کی گئی اور دعوت الی اللہ کے منصوبے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے ذکر سے پہلے میں آپ کو موجودہ طور پر جو جماعت کی اس وقت کیفیت ہے یا آج سے ایک سال پہلے جو کیفیت تھی وہ بتاتا ہوں کہ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ 80 ممالک میں جماعتیں قائم تھیں اور اب یہ تعداد بڑھ رہی ہے اور ان میں 307 مرکزی مبلغ اور 111 مبلغ اس کے علاوہ ہیں غالباً مقامی 111 ہیں۔اس دوران جو ۱۹۸۴ء کا سال ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں نئے مشنز کھولنے کی بھی توفیق ملی اور کسی پہلو سے بھی ایک منٹ کے لئے بھی کام نہیں رُکا۔۱۹۸۴ء کے سال میں ہم نے زائرے میں مشن کھولا ، زمبابوے میں کھولا ، آسٹریلیا میں کھولا اور اس وقت مبلغ چونکہ اجازت نہیں ملی تھی اب جا رہا ہے، یہاں اس وقت موجود ہے انگلستان میں، وہ نائیجیریا سے ان کو منتقل کیا گیا تھا وہ اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں اور تھائی لینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نیا مشن کھولا ، گو یا چار نئے ممالک میں خدا تعالیٰ نے اس ایک سال میں مشن کھولنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس کے علاوہ میں نے رضا کار مبلغین کا نظام بھی جاری کیا اور بعض ممالک جہاں مبلغ نہیں جاسکتا تھا وہاں بعض دوستوں کو تحریک کی انہوں نے وہاں نوکریاں اس نیت سے تلاش کیں کہ ہم جا کر وہاں مبلغ بنیں۔چنانچہ نبی کے قریب ایک جزیرے میں اس نیت سے ایک نوجوان کو میں نے تیار کیا