خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 500
خطابات طاہر جلد دوم 500 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء اور آپ کے سامنے جو ر تایا خوف کھاتا تھا اس کو تسلی دیا کرتے تھے کہ مالک ایک ہی ہے اور بادشاہ وہی ہے۔ایک حدیث اسی تعلق میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے آنحضرت اپنی بیویوں کے درمیان باریاں تقسیم کیا کرتے تھے اور اُن میں عدل فرماتے اور یہ دعا بھی کرتے "اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے اس چیز میں جس کا میں مالک ہوں“۔یعنی ظاہری طور پر جو بھی عدل کا تعلق ہے وہ میں بہر حال روا رکھتا ہوں۔باریاں مقرر ہیں ، ہر ایک کو برابر حصہ دیتا ہوں، یہ تو وہ چیز ہے جس کا میں مالک ہوں لیکن ” جس چیز کا میں مالک نہیں بلکہ تو مالک ہے اُس بارہ میں مجھے ملامت نہ کرنا۔(ابو داؤد کتاب النکاح حدیث نمبر : ۱۸۲۲) صلى الله اب اس سے مراد یہ ہے کہ دل کا تعلق جہاں تک ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے دل کو چاہے جس کی طرف زیادہ پھیر دے جس کی طرف چاہے کم پھیر دے۔تو آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میں اگر کسی سے طبعی اور زیادہ محبت کرتا ہوں تو اس میں میرا قصور کوئی نہیں۔میں تو تیرا ادنی چاکر ہوں اور تیرے ہاتھ میں میرا دل بھی ہے جس طرح سب دنیا کے دل ہیں لیکن ظاہری انصاف کا جہاں تک تعلق ہے وہ میں ہر طرح سے پورا کرتا ہوں۔اسی تعلق میں ایک حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺہ جب نماز سے فارغ ہوتے اور سلام پھیر دیتے تو یہ ذکر کرتے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، وہی بادشاہ ہے، وہی مستحق حمد وثنا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔اے میرے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو رو کے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔کسی مالدار اور طاقتور کو اس کا مال اور اس کی طاقت تجھ سے نہیں بچاسکیں گے اور نہ ہی کوئی فائدہ دے سکیں گے“۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب حدیث :۹۳۳) اب ایک اور آیت کریمہ ہے سورۃ المائدہ کی ۱ ویں آیت أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قدیر کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔