خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 499

خطابات طاہر جلد دوم 499 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء سوسال پہلے کی تاریخ حیرت انگیز رنگ میں اس دور میں دہرائی جارہی ہے۔(خطبه جمعه بر موقع جلسه سالانه فرموده ۲۴۰ اگست ۲۰۰۱ ء بمقام ناصر باغ فرینکفرٹ جرمنی) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔یہ جو سلسلہ خطبات ہے یہ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے تعلق میں ہے اور لفظ ملک کے جو مختلف Derivative ہیں ان کے جو مختلف استعمالات قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں وہ اس خطبہ کا بھی موضوع ہیں، اس سے پہلے خطبہ کا بھی موضوع تھے۔پہلی آیت سورۃ بقرہ نمبر ۱۰۸ پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِي وَلَا نَصِيرٍ کیا تو نہیں جانتا کہ وہ اللہ ہے جس کی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے؟ اور اللہ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی سر پرست اور مددگار نہیں۔اس ضمن میں ایک حدیث ہے حضرت ابی مسعودؓ سے مروی ہے۔حضرت ابومسعود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔آپ ﷺ نے اس سے گفتگو شروع کی تو اس کے شانے کا پنپنے لگے۔آنحضرت نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔میں کوئی بادشاہ نہیں۔میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ حدیث: ۳۳۵۳) یہ آنحضرت ﷺ کی انکساری کی شان ہے۔حقیقت میں آپ صرف اللہ ہی کو بادشاہ سمجھتے تھے