خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 501
خطابات طاہر جلد دوم 501 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2001ء اس ضمن میں ایک حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں دوزخیوں میں سب سے آخر پر دوزخ سے نکلنے والے کو جانتا ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا نظارہ دکھایا ہے۔” نیز اہل جنت میں سے سب سے آخر پر جنت میں داخل ہونے والے کو بھی جانتا ہوں“۔یہ دونوں ایک ہی چیز کے دورخ ہیں۔جو دوزخ میں سب سے آخر پر نکلے گا وہی جنت میں سب سے آخر پر داخل ہو گا۔پس جب وہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا، جب وہ دوزخ سے نکلے گا تو رینگتے ہوئے نکلے گا۔جب وہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا تو اُسے خیال پیدا ہو گا کہ وہ بھر چکی ہے۔پھر وہ واپس لوٹ جائے گا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا کہ اے میرے رب ! میں نے اُسے بھری ہوئی پایا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اُسے فرمائے گا کہ جا اور جنت میں داخل ہو جا۔تجھے دنیا کے برابر نیز اس سے دس گنا مزید دیا جاتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ یا حضور نے فرمایا تھا کہ تجھے دنیا سے دس گنا بڑھ کر دیا جاتا ہے۔تب وہ شخص کہے گا کہ اے اللہ! تو مالک الملک ہے، میر امذاق تو نہ اڑا۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس پر آنحضرت سے بھی ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک نظر آنے لگے۔حضور نے فرمایا پھر کہا جائے گا کہ یہ شخص اہل جنت میں سے سب سے کم درجہ پر ہے کیونکہ سب سے آخر پر داخل ہوا ہے۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ۲۷۲) اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام الحکم ۳۱ راگست کے حوالہ سے فرماتے ہیں: دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی۔مگر خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ کامل گورنمنٹ اور لا انتہا خزائن کی مالک ہے، اُس کے حضور کوئی کمی نہیں۔کوئی عمل کرنے والا ہو وہ سب کو فائز المرام کرتا ہے اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلہ میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے“۔(الحکم ۳۱ اگست ۱۹۰۱ صفحہ ۲۰)