خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 228
خطابات طاہر جلد دوم 228 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء سر براہوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں بڑی عاجزی اور انکسار سے ان کو سمجھا تا ہوں کہ میں کوئی سیاستدان نہیں ہوں جو ان کی تعریف کے لئے آیا ہوں۔میں ایک مذہبی نمائندہ ہوں، میں انہیں حقیقت بتانے آیا ہوں۔میں سچائی کی زبان بولوں گا، میں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ آپ کی قوم میں کیا کیا کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں ان کمزوریوں سے اس قوم کو بچائیں ورنہ آپ کی راہ ہلاکت کی راہ ہے اور میرا تجربہ ہے کہ سچائی کی آواز میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔جب بھی میں نے کھل کر مختلف قوموں کے سربراہوں سے یہ باتیں کی ہیں کبھی کسی نے بھی اس کو برانہیں منایا بلکہ ان کے دل میں اسلام کے پیغام کا احترام ہمیشہ بڑھا ہے اور انہوں نے پہلے سے بڑھ کر ادب اور عزت کے ساتھ مجھ سے سلوک کیا ہے۔نیکی میں ایک طاقت ہے جس سے ادب پیدا ہوتا ہے، جس سے احترام پیدا ہوتا ہے۔وہ طاقت کا سرچشمہ ہے جس کے نتیجے میں آپ کو طاقتور بنایا جائے گا، جس کے نتیجے میں آپ کو غلبہ عطا کیا جائے گا۔اس سر چشمے سے پانی پئے بغیر کس طرح آپ دنیا کو ہدایت کی طرف بلائیں گے ، کس طرح آپ دنیا کے مذاہب تبدیل کریں گے۔پس یہ وہ ابتدائی قدم ہے جسے آپ کو لازماً اٹھانا ہوگا، ابتدائی قدم تو حیا کا قدم تھا۔میرا مطلب یہ ہے کہ جب آپ بنی نوع انسان کی طرف ان کو بچانے کے لئے نکلیں گے تو ہر گز اس بحث کو پہلے نہ چھیڑیں کہ تم پہلے مسلمان ہو، پہلے احمدی ہو پھر ہم تمہیں بتا ئیں گے کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے۔ان کو بتائیں تم پہلے انسان بنو، تم انسانیت کی قدروں سے عاری ہوتے چلے جارہے ہو یہ ہلاکت کی راہیں ہیں۔اس مضمون میں ہر انسان کے دل کی آواز آپ کی آواز کی تائید میں اٹھے گی ، ہر انسان کا دل گواہی دے گا کہ آپ سچ بول رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں آپ کو وہ اثر کی طاقت عطا کی جائے گی جس کے بعد بالآخر انسان ہمیشہ ہدایت کی طرف آگے قدم بڑھانے لگ جاتا ہے۔حـمـد امـبـار کـا کے متعلق میں نے آپ کو جمعہ میں بتایا تھا ہر اچھی چیز میں دراصل ایک برکت کا مضمون پایا جاتا ہے۔جب آپ نیکیوں کی تعلیم کے ذریعے، بدیوں سے روکنے کے ذریعے، نیک نمونوں کے ذریعے اچھے اثر قائم کرتے ہیں تو آپ کو ایک نفسیاتی غلبہ عطا ہوتا ہے، لوگ آپ سے محبت کرنے لگتے ہیں، آپ کی بات ماننے لگ جاتے ہیں اور پھر آپ کے مذہب میں ان کو دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور وہی حقیقی دلچسپی ہے۔