خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 227
خطابات طاہر جلد دوم 227 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء مغرب میں اور بعض پہلوؤں سے مشرق میں کہ وہ برائیاں جو معاشرے میں بڑھتی چلی جارہی ہیں وہ ہمیشہ اسلام کی راہ میں روک بنتی چلی جاتی ہیں۔اب یہ جنگ معاشرتی جنگ بن چکی ہے۔وہ لوگ جنہیں شرابوں کی عادتیں پڑ گئیں، جنہیں ناچ گانے کی عادتیں پڑ گئیں، جنہیں کھلم کھلا بے حیائیوں کی عادتیں پڑگئیں ان کو آپ کیسے حیا کی طرف بلائیں گے؟ اگر آپ نے رفتہ رفتہ ان کی تربیت کا کام شروع نہ کیا، اگر آپ نے معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے کی کوشش نہ کی تو وہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں داخل ہو نہیں سکتے۔میں نے بعض ایسے مسلمان غیر احمدی دوستوں کے واقعات سنے ہیں جو جانتے ہیں کہ احمدیت سچی ہے لیکن جب ان سے کہا جائے کہ بیعت کر لو تو یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہم میں برائیاں بہت ہیں، کمزوریاں بہت ہیں ہم بیعت کے اہل نہیں ہیں۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لفظ تو ان پر غالباً اطلاق نہیں پائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ نے بیعت نہیں کی) آپ سے جب یہ پوچھا جاتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کیسے تھے؟ تو وہ عاشقانہ رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریفیں کرتے تھے اور آپ کی تصدیق فرماتے تھے۔جب ان سے کہا جاتا تھا کہ پھر آپ احمدی کیوں نہیں ہو جاتے اور بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ وہ کہا کرتے تھے ! مجھ میں کمزوریاں بہت ہیں۔یہ تو ایک انکساری کا اظہار تھا ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔مگر اُن آزاد قوموں میں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوں یا مغرب سے تعلق رکھتی ہوں جہاں برائیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں اور نیکیاں کم ہوتی چلی جارہی ہیں وہاں اسلام کے پھیلنے کے امکانات کم ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے آپ کو برائیوں کے خلاف جہاد آج سے شروع کرنا ہے، بہت پہلے شروع کرنا چاہئے تھا۔اگر آپ نے نہیں کیا تو ہر گز انتظار نہ کریں کہ لوگ پہلے اسلام کو قبول کریں پھر ان کو سمجھائیں کہ کیا با تیں غلط ہیں کن باتوں سے تمہیں رُکنا چاہئے ، کن باتوں کو اختیار کرنا چاہئے۔ایک صلائے عام دنیا کو دیں نیکیوں کی طرف بلانے کی اور ایک انتباہ عام جاری کریں بدیوں سے ڈرانے کا اور انہیں سمجھائیں کہ تم جن راہوں پر چل رہے ہو وہ ہلاکت کی راہیں ہیں۔یہ جینے کے اطوار نہیں ہیں۔چنانچہ میں اپنے سفروں میں ہمیشہ ان باتوں کو لازم پکڑتا ہوں۔جب بھی میری قوموں کے