خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 229

خطابات طاہر جلد دوم 229 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء فرمایا وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اگر تم ایسا کرو گے تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ تم لازماً کامیاب ہو گے۔دیکھو! کامیابی کا کیسا نسخہ ہمیں سمجھا دیا گیا ہے۔یہی وہ نسخہ ہے جس پر عمل کرنے کے ذریعے ہم رب العالمین کی حمد سے تمام کائنات کو بھر سکتے ہیں۔فرمایا وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ دیکھیں کس طرح خدا تعالیٰ نے دوبارہ اس مضمون کو وہیں سے اٹھا لیا کہ یاد کرو جب محمد رسول اللہ نے تمہیں اکٹھا کیا تھا۔یہاں خصوصیت سے مسلمان مخاطب ہیں اور مسلمان دور آخر کے مسلمان ہیں۔یہ جو تکرار فرمائی گئی ہے یہ اس زمانے کے مسلمانوں کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔فرمایادیکھو وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنت یا درکھو تمہیں خدا نے ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا تھا۔تم گروہوں میں بٹ چکے ہو لیکن ہم تمہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ ہرگز ایسا نہ کرو تمہیں لازماً دوبارہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہونا ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اس کے لئے فلاح کی خوشخبری نہیں ہے۔فرما او أو لَكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ایسے لوگوں کے لئے یا عَذَابٌ عَظِيم مقدر ہے۔يَوْمَ تَبْيَضُ وَجُوْهٌ وَتَسْوَدُّ وَجُوْهُ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُم أكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمُ دیکھیں کیسے مضمون کو کھول دیا ہے۔البيِّنت فرمایا اور قت البينت میں سے یہ بھی ایک بینہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو خوب کھول دیا شک کا کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا۔فرمایا دیکھو بعض چہرے جزا سزا کے دن سیاہ ہوں گے اور ان چہروں سے یہ سوال کیا جائے گا۔آكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ کیا تم وہ ہو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا تھا۔فرمایا أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ۔پس اس عذاب کو چکھو جو اس وجہ سے ہے کہ تم نے سچائی کو قبول کرنے کے بعد اُس سچائی سے انکار کر دیا۔یہ سچائی کونسی سچائی ہے؟ یہ وحدت کی سچائی ہے۔سارا مضمون اسی سچائی کے ذکر سے بھرا پڑا ہے۔یہ حبل اللہ پر ہاتھ ڈالنے کی سچائی ہے، یہ محمد رسول اللہ اللہ کے ہاتھ پر اکٹھے ہونے کی سچائی ہے، یہ آپ کے بعد اس خلافت پر اکٹھے ہونے کی سچائی ہے جو محمد رسول اللہ کے فیض سے آخرین میں دوبارہ جاری ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا۔