خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 160

خطابات طاہر جلد دوم 160 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کے سامنے پیش کروں گا کچھ پرسوں پیش کروں گا وہ حالات جب سنیں گے تو آپ کا دل خدا تعالیٰ کی غیر معمولی حمد سے بھر جائے گا۔اس وقت اپنے ان مظلوموں کو بھی یادرکھیں اور ان کو اپنی دعاؤں میں خاص جگہ دیں جن کے ذکر پر مشتمل میرا آج کا خطاب ہے۔یہ تو ممکن نہیں کہ میں اس مضمون کا حق ادا کرسکوں کیونکہ روزانہ مجھے کم سے کم تین سو اور بعض اوقات ہزار بلکہ اس سے زیادہ خطوط موصول ہوتے ہیں اور ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جو میرے دل کیلئے آزمائش بن کر نہ آتا ہو اور ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جبکہ آنسوؤں سے لکھی ہوئی تحریریں مجھ تک نہ پہنچی ہوں ، چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جو لکھنا نہیں جانتے اپنی ماؤں سے لکھواتے ہیں وہ معصوم طالب علم جو طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنائے جاتے ہیں، وہ کان جو گالیاں سنتے سنتے پک جاتے ہیں، وہ معصوم بچیاں جن کے سروں کی چادریں اتاری جاتی ہیں، وہ جو اپنے ہاتھوں سے اپنے قلم سے لکھنے سے معذور ہوتے ہیں تو دوسروں سے لکھوالکھوا کر مجھے خط بھجواتے ہیں ، ایک دن صرف ایک دن کی ڈاک کے افسانے اگر تمام دنیا سن لے تو ان کے دل غم سے پھٹ جائیں۔یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے حوصلہ عطا کیا ہے وہ مجھے طاقت بخشتا ہے اور بعض دفعہ جب میں سمجھتا ہوں کہ میری طاقت سے بڑھ رہا ہے معاملہ تب خدا تعالیٰ کا یہ فرمان میری ڈھارس بنتا ہے کہ۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا ما اكتسبت خبر دار خدا تعالیٰ کبھی کسی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا میری طاقت سے بڑھ کر جب بوجھ اس نے مجھ پر ڈالا تو میری طاقت کو بڑھا دیا۔ایسے موقع پر بعض دفعہ مجھے غالب کا وہ شعر یاد آ جا تا ہے۔میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیے ہوتے (دیوان غالب صفحہ :۲۸۰) لیکن میں آسمان کے خدا کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ اس نے میرے ایک دل کو ہزاروں دلوں میں تبدیل کر دیا ہے اور ہزاروں دلوں کی طاقت مجھے بخشا ہے ورنہ میرے جیسے کمزور دل کے انسان کیلئے ممکن نہیں تھا کہ ایک دن کے دکھوں کو برداشت کر سکتا اور بعید نہیں تھا کہ میرا دل ایک دن کے دکھوں کا مطالعہ کر کے ہی جواب دے جاتا لیکن وہ اپنے فضل سے میری ہمتوں کو بڑھاتا ہے، میرے