خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 159
خطابات طاہر جلد دوم 159 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کتابت ویسا اثر نہیں دکھا سکتی۔مجھے خیال آیا کہ ان کے جذبات انہی کے الفاظ میں جن کے دل پر کچھ گزر رہی ہے نمونیہ آج آپ کے سامنے پیش کروں تا کہ جب آپ خدا کے فضلوں کے ذکر سنیں گے تو یہ خیال نہ کریں کہ جماعت احمدیہ کی اپنی ہوشیاریوں اور تدبیروں اور محنتوں کے نتیجے میں خدا کے فضل نازل ہوئے ہیں بلکہ ان مسکینوں اور مجبوروں کے حالات پر نگاہ رکھ کر ان کو دعائیں دیں گے جن کا دردان فضلوں کو جذب کرنے کا موجب بنا ہے۔بسا اوقات دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ گرمی کی لہریں تو کسی اور ملک میں اٹھ رہی ہوتی ہیں اور برکھا کسی اور جگہ برس رہی ہوتی ہے۔لیکن حقیقت میں بادوباراں کے جو طوفان اٹھتے ہیں وہ کسی اور ملک کی گرمی کی علامت کے طور پر اٹھا کرتے ہیں۔پس بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی ایک ملک کو قربانیوں کے لئے چنتا ہے اور اسی ملک کو قربانیوں کے لئے چنتا ہے جس میں وہ اس بات کی صلاحیت پاتا ہے کہ وہ ایک لمبے عرصے تک خدا کے حضور قربانیاں دیتے چلے جائیں گے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ:۲۸۷) کا مضمون اس وقت اپنے کرشمے دکھاتا ہے اور بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ میں تو یہ طاقت نہیں ہیں تو اس بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا پھر خدا نے کیوں مجھ پر اتنا بوجھ ڈالا لیکن وہ خدا جو اپنی مصنوعات، اپنی کائنات، اپنی مخلوقات کی گنہ سے واقف ہے وہ کبھی کسی کی حیثیت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتا یعنی ان لوگوں پر ان کی توفیق سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا جن کو دنیا میں اس نے زندہ و قائم رکھنا ہو۔جو باقیات الصالحات کی طرح آئندہ نسلوں میں عزت کے ساتھ یاد کئے جانے والے ہوں ان پر جو بوجھ ڈالے جاتے ہیں وہ مٹانے کے لئے نہیں بلکہ ان کی استطاعت اور توفیق کے مطابق ڈالے جاتے ہیں۔پس اے اہل پاکستان جو وہاں سے بڑے مشکل حالات سے دو چار ہوتے ہوئے محض للہی محبت میں یہاں پہنچے ہو میں تمہیں مبارک باد دیتا ہوں کہ خدا نے جو بوجھ تم پر ڈالے ہیں تمہاری استطاعت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔خدا کی نظر میں تمہارا ایک عظیم مقام ہے اور دنیا میں جو غیر معمولی خدا کی رحمتوں کی بارشیں نازل ہو رہی ہیں وہ تمہارے دلوں کی گرمی ہی ہے جو اٹھ کر آسمان پر پہنچتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتی ہوئی رحمتوں کی بارش بن کر تمام دنیا پر نازل ہوتی ہے۔پس دنیا کے ۱۲۰ ممالک میں جو جشن تشکر منایا جا رہا ہے اس کے حالات کچھ میں کل آپ