خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 2

خطابات طاہر جلد دوم له 2 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء پرانے قصہ ہائے درد بھی دہراتے رہا کرو۔اصلى الله اس پہلو سے جب میں نے آغاز احمدیت پر غور کیا تو میرا ذہن معاً آغاز اسلام کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ نور کا اصل چشمہ جو گل عالم کے لئے پھوٹا تھا اس کا آغاز تو حضرت محمد مصطفی ہے کی ذات سے ہی ہوا۔اس لئے میں نے سوچا کہ درد کی وہ کہانیاں کیوں نہ بیان کروں جو آغاز اسلام سے وابستہ ہیں۔نور کی باقی ساری شکلیں تو اُسی ایک شکل سے پھوٹ رہی ہیں جیسے درخت کی شاخیں ایک ہی تنے سے پھوٹا کرتی ہیں۔چنانچہ اس جہت سے جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ نور کے آغاز کے وقت دنیا کی ایک عجیب متضاد کیفیت ہو جایا کرتی ہے۔ایک طرف تو عقلوں کو جلا دی جاتی ہے اور ٹورعلی ٹور کا منظر ہوتا ہے اور دوسری طرف سوچ بچار کی ساری قو تیں مفلوج ہو جاتی ہیں افکار بگڑ جاتے ہیں، نظریات بگڑ جاتے ہیں قلبی رجحانات بگڑ جاتے ہیں، اعمال بگڑ جاتے ہیں۔اس دوسرے منظر (Phenomenan) کو پہلے سے کوئی بھی مناسبت نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا قرآن کریم کی یہ آیت اپنی پوری شان کے ساتھ اطلاق پارہی ہے کہ ہم نے انسان کو اَحْسَنِ تَقْوِیمِ صلى الله بنایا ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ پھر اس کو أَسْفَلَ سفلین کی طرف لوٹا دیا۔تو آنحور کے زمانہ میں یہ دو مناظر بڑی نمایاں اور امتیازی حیثیت سے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایک طرف اسفل سفلین کا منظر ہے اور دوسری طرف أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ کا منظر ہے۔میں اس مضمون کا آغاز تعاون کے دو تصورات پیش کر کے کرنا چاہتا ہوں۔تعاون کا ایک وہ تصور ہے جو حضرت اقدس محمد وحی الہی کے مطابق پیش فرمارہے تھے اور اس کے مقابل پر تعاون کا ایک وہ تصور تھا جو کفارِ مکہ پیش کر رہے تھے۔ان دونوں کو دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ ایک ہی وقت میں ایک ہی آب و گل سے پلنے والے، ایک ہی روشنی اور ایک ہی ہوا میں سانس لینے والے وجودوں کے تصورات میں زمین و آسمان کا فرق پڑ گیا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان فرمایا۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ