خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 379

خطبات طاہر جلد دوم 379 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء سب کچھ اللہ ہی ہے۔آپ کی ذات ہر خوبی سے عاری اور خالی ہے سوائے اس کے کہ جو رحم اللہ کی طرف سے عطا ہو، جو فضل اس کی جودت ، اس کی منت ہو وہی ہے جو آپ کی عزت کا موجب ہے۔پس ایسا انکسار ہے جو حقیقت میں ماحول میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تکبر دنیا میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔حقیقی انکسار ہے جس کے ساتھ انقلاب کے تار وابستہ ہوتے ہیں۔یہی منکسر المزاج بندے ہیں جو دنیا میں عظیم الشان روحانی انقلاب برپا کیا کرتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں: ”اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔اب ایسے لوگوں کے لئے باقی رہ کیا جاتا ہے سوائے اس کے کہ ہمہ تن صبح شام دین کی خدمت میں مصروف رہیں اور ہمیں بکثرت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا کی مختلف جماعتوں میں خدا کے ایسے بندے نہ صرف دکھائی دے رہے ہیں بلکہ بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور میری دعا یہ ہے کہ خدا کے ایسے پاک بندے جن کا ذکر مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے بکثرت پیدا ہوں اور جماعت کی اکثریت بن جائیں۔یہاں تک کہ دوسرے شاذ کے طور پر استثناء کی حیثیت سے دیکھے جائیں اور عملاً خدا کے یہ پاک بندے ایک غالب اکثریت ہو جائیں۔دنیا میں انقلاب ہم ہی نے برپا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں ، ایک ادنیٰ ایک ذرہ کا بھی شک نہیں۔میرا دل لبالب اس یقین سے بھرا ہوا ہے، سر سے پاؤں تک میں اس ایمان پر قائم ہوں کہ آج اگر دنیا میں کوئی پاک تبدیلی کسی نے پیدا کرنی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عاجز جماعت نے پیدا کرنی ہے جو کچھ میرے سامنے بیٹھی ہے اور کچھ مجھے اپنے سامنے دیکھ رہی ہے، تمام دنیا کے کونے کونے سے وہ ٹیلی ویژن کے ساتھ آنکھیں لگائے دل چپکائے بیٹھے ہوئے ہمارے اندر شامل اور ہماری ہر ادا کو دیکھ رہے ، ہماری ہر آواز کو سن رہے ہیں انہی عاجز بندوں سے آئندہ دنیا کے انقلاب وابستہ کئے گئے ہیں۔پس حقیقی معنوں میں آپ یہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کریں پھر دیکھیں کہ انقلاب پیدا کرنا خدا کا کام ہے۔ہماری تقریریں کچھ کام نہیں آئیں گی۔اللہ کی تقدیریں ہی ہیں جو کام آئیں گی اور مجھے یقین ہے کہ ضرور ایسا ہی ہوگا۔میں نے آپ کو بتایا تھا کہ جو اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں اور اللہ کی خاطر ہی اپنے تعلقات کے رشتے از سرنو استوار کرتے ہیں کچھ رشتوں سے وہ کاٹے جاتے ہیں، کچھ نئے رشتے ان کو عطا