خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 378

خطبات طاہر جلد دوم 378 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء ہے، ایک لافانی دائمی نیکی کے ساتھ بھر دیتی ہے یہاں تک کہ ان کے لئے اس محبت کو چھپانا ان کے بس کی بات نہیں رہتی۔از خود وہ خوشبوؤں کی طرح پھوٹتی ہے، از خود وہ پہاڑی شفاف چشموں کی طرح ابل کر باہر آتی ہے۔پھر وہ لوگ شناخت کئے جاتے ہیں، دیکھے جاتے ہیں اور جو اُن پر نظر ڈالتے ہیں وہ پیار کی نظر ڈالتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی نمونہ تقلید کے لائق ہے تو ان لوگوں کا نمونہ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تمام نیکیوں کو بالذات مقصود بتاتے ہوئے اختیار کرنے کی نصیحت فرماتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ اس حد تک تمہارا پیار اور محبت آپس میں بڑھے جو للہی پیار اور لہی محبت ہو کہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو۔انکسار، اپنے اندر خوبیوں کو دیکھ کر تکبر اختیار نہ کرنا بلکہ اور زیادہ اپنے وجودکو عاجز اور اپنی نظر میں بریکار دیکھنا یہ حقیقی انکسار ہے اور تواضع اس انکسار کا نتیجہ ہے۔ہر دوسرا شخص اپنے سے بہتر دکھائی دینے لگتا ہے۔پس کئی قسم کے لوگ ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں تواضع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ایک انسان کوئی بڑا آدمی کسی مجلس میں آتا ہے تو کچھ لوگ ادب سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں آئے آپ یہاں تشریف رکھیں لیکن یہ تواضع وہ نہیں ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذکر فرما رہے ہیں۔وہ تواضع تو دنیا کی خاطر ہے مگر اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی آپ دیکھیں گے جو اللہ کی محبت میں ایسے عاجز ہو جاتے ہیں، ایسا معجز اختیار کر لیتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنے سے اچھا دیکھتے ہیں۔جب بھی آپ کسی ایسی مجلس میں جائیں جہاں ایسے لوگ بیٹھے ہوں تو بے ساختہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم سے بہتر ایک اور آ گیا۔پھر ایک اور آتا ہے تو اسے بھی ایسا ہی دیکھتے ہیں کہ گویا ان سے بہتر ایک اور آ گیا اور ہر ایک کے لئے وہ اپنی جگہ خالی کرتے چلے جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کو آسمان پر جگہیں عطا کی جاتی ہیں۔ہر وہ جگہ جو خدا کی خاطر وہ کسی اور کے لئے خالی کرتے ہیں اپنے دل میں وہ خدا کو سمو لیتے ہیں اور خدا ان کے دلوں میں جگہ بنا تا چلا جاتا ہے اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کو آسمان پر مسندیں عطا کی جاتی ہیں۔پس تواضع کرنی ہے تو ان معنوں میں کریں کہ لیلی تواضع ہو لیہی انکسار ہو اور حقیقتا آپ اپنے آپ کو خدا کی محبت اور اس کے عشق میں فنا کر کے کچھ بھی نہ پائیں۔یہاں تک کہ آپ سمجھیں کہ