خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 148

خطابات طاہر جلد دوم 148 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء تنگ آکر خود ہی رخت سفر باندھا اور یہاں سے پہلے گوادر اور پھر ایران چلا گیا اور بعد میں ایرانی فوج میں بھرتی ہو گیا۔مگر جسمانی کمزوری اور متعدد بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باعث میں نے ایرانی فوج کی ملازمت چھوڑ دی۔میں خود اس لئے گم نہیں ہوا کہ قادیانی اقلیت کو پریشان کروں۔انگریزی میں کہتے ہیں The cat is out of the bag یہ دل میں کھٹک رہی تھی بات۔صاف پتا چلتا ہے کہ اس سازش میں پورا ایک حصہ لینے والے کل پرزے تھے اور بنیادی وجہ یہی تھی اس لئے بغیر کسی کے پوچھے ہی فورا ساتھ یہ کہہ دیا کہ میں قادیانیوں کو احمدیوں کو دکھ پہنچانے کی خاطر نہیں گیا۔مولانا نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اس تمام عرصے میں یعنی پانچ سال سے زائد عرصے سے انہوں نے اپنے گھر کوئی پیسہ نہیں بھجوایا۔اب تعجب کی بات یہ تھی کہ مالی پریشانیوں سے گھبرا کر وہ نکلے تھے بیوی بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں وہ چھوڑ گئے تو پیسہ کیوں نہیں بھجوایا۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ یہ صحیح ہے کہ میں نے پیسہ نہیں بھجوایا مگر وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کا رازق ہے۔اب بتائیں کہ اتنا بڑا عالم ہو کے میں یہ کیسے بھول جاتا کہ اللہ رازق ہے صرف رازق نہیں تو اسلم قریشی کا ہی نہیں ہے۔جو مالی تنگی سے گھبرا کر باہر بھاگ گئے اور پانچ سال تک بیوی بچوں کی مڑ کر خبر تک نہ لی اور کہا ایک پیسہ بھی اس عرصے میں نہیں بھجوایا۔پھر فرمایا کہ بات یہ ہے کہ چونکہ اتنا کامل تو کل تھا کہ اللہ تعالیٰ رازق ہے میں نے زمانہ بے وطنی میں اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔پھر انہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا تھا میں اپنی مرضی سے بعض وجوہ کی بنا پر ایران گیا تھا۔میری طویل عرصہ تک روپوشی کے دوران پاکستان میں جو جانی و مالی نقصان ہوا میں اس میں برابر کا شریک ہوں اور اس پر شرمندہ ہوں۔آئی جی پنجاب نے پریس کو بتایا کہ پولیس تو شروع سے ہی جانتی تھی کہ قتل و تل کا تو سوال ہی نہیں یہ سب فراڈ ہے اور پولیس ان کو بازیاب کرانے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔آخر یہ ایسا انتظام ہو گیا کہ یہ ہمارے ہاتھ آگئے۔یہ جو خبریں شائع ہوئیں اور ٹیلی وژن پر اس کا چرچا ہوا۔چونکہ یہ خبر فی ذاتہ جماعت کے معاند علماء کو ذلیل ورسوا کرنے والی تھی اور ساری دنیا میں ان کے ڈھول کا پول کھلتا تھا کہ کس قسم کے علماء ہیں کس قسم کے قماش کے لوگ ہیں یہ ایسا کھلم کھلا جھوٹ اور افترا ہے اور پھر ایسی ظالمانہ سازش کہ کثرت سے جماعت احمدیہ کو مظالم کا نشانہ بنایا جانا