خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 147
خطابات طاہر جلد دوم 147 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء دوں تو اس میں میں نے یہ بات بطور خاص لکھی خطبے میں بھی بیان کی اور تحریر میں یہ بات شامل کی کہ تم بحیثیت سربراہ جماعت احمد یہ مجھ پر ایک شخص اسلم قریشی کے قتل کا الزام لگارہے ہو پانچ سال ہو گئے یہ سنتے ہوئے کان پک گئے۔تم سے تو کچھ کلام نہیں مگر اپنے خدا سے تو کلام ہے اس لئے تمہیں مباھلے کا چیلنج دیتے ہوئے میں اس بات کو بھی شامل کرتا ہوں تم بھی خدا کی قسم کھا کر کہو کہ واقعہ اس شخص کو اغواء کر کے قتل کروایا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کے سربراہ نے ایسا کیا ہے اور میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ الف سے ے تک یہ سارا دروغ ہی دروغ ، جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔پس تم بھی خدا کی لعنت ڈالو جھوٹے پر اور میں بھی خدا کی لعنت ڈالتا ہوں جھوٹے پر۔یہ دس تاریخ کا اعلان ہے اور ایک مہینے کے اندراندر بلکہ بعینہ ایک مہینے پر عین دس تاریخ کو جولائی ہی کی دس تاریخ کو اسلم قریشی صاحب ایران سے کوئٹہ پہنچ گئے۔گو ان کے پہنچنے کی خبریں کچھ دن بعد شائع ہوئیں لیکن یہ بات مسلمہ اور مصدقہ ہے کہ وہ عین دس تاریخ کو پاکستان میں داخل ہوئے۔جب ان سے پوچھا گیا۔پہلے اس سے میں آپ کو یہ بتاؤں جب یہ داخل ہوئے اور پولیس کی تحویل میں آگئے تو وہاں بہت ہی ایک قسم کا مباحثہ ہوا بڑے لوگوں میں کہ اس شخص کو اب کیا کریں اور کیا کہیں؟ ایک ایسی ہڈی ہے جو اگلی جائے نہ نکلی جائے۔لوگوں کو بتائیں تو کیسے بتائیں نہ بتائیں تو اس کے کیا خطرات ہیں۔چنانچہ دو گروہوں میں فیصلہ کرنے والے بٹ گئے اور آخر وہ گروہ غالب آیا۔انہوں نے کہا کہ عقل کے ناخن لو اس شخص کو اگر تم چھپاؤ گے تو تم ملوث ہو جاؤ گے اور ہمیشہ دنیا کہے گی کہ تم نے جان کر چھپایا تھا کیونکہ تم اس جرم میں شروع سے ہی شریک تھے اس لئے تمہیں بہر حال ظاہر کرنا پڑے گا اور اگر ظاہر کرنا ہے تو باقاعدہ ٹی وی پر ظاہر کرو اور آئی جی پولیس بڑی ذمہ داری کے ساتھ سارا اعلان کرے۔چنانچہ ۱۳ جولائی ۱۹۸۸ء کو ایک پریس کانفرنس بلائی گئی۔جس میں آئی جی پنجاب پولیس نے یہ انکشاف کیا اور اس پر مولانا اسلم صاحب کے ساتھ پریس والوں نے کچھ سوال بھی کئے جن کے جواب بھی اخبار میں شائع ہوئے۔میں اس میں سے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب پوچھا گیا کہ مولانا آخر آپ غائب کیوں ہو گئے بیٹھے بٹھائے سوجھی کیا آپ کو ؟ ہنستا بستا گھر چھوڑ گئے علماء کو اتنا دکھ پہنچا کہ وہ آپ کی مغفرت کی دعائیں کرنے لگے اور آپ کو ہوش ہی کوئی نہیں۔تو انہوں نے فرمایا میں نے نامساعد گھر یلو اقتصادی حالات اور نامواقف دینی ماحول سے