خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 149
خطابات طاہر جلد دوم 149 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء ملک کے شمال سے جنوب تک تحریکیں چلائی جانی۔کئی نہایت عظیم الشان احمدی اس تحریک کے دوران شہید بھی ہوئے۔طرح طرح کے مظالم کا جماعت کو نشانہ بنایا گیا گلیوں میں گھسیٹے گئے ہر طرح کا زدوکوب کیا گیا غرضیکہ کوئی بھی کسر انہوں نے ظلم کی اٹھا نہیں رکھی۔اس ساری تاریخ کو مد منظر ر کھتے ہوئے جب آپ دیکھتے ہیں کہ ثابت ہو رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کا اس واقعہ سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے تو اس گروہ علماء کی ذلت ورسوائی تو ظاہر وباہر ہے ان کا جھوٹا ہونا تو ثابت ہو گیا لیکن عین اس وقت یہ ہوا جبکہ ایک مہینہ پہلے با قاعدہ ان کو مباحصلے کا نوٹس دے دیا گیا تھا اس لئے اس تکلیف میں مزید آگ لگ گئی اس قدر بے قراری ہوئی علماء کو اس واقعہ سے کہ وہ آپے سے باہر ہو گئے اور ایسی الٹی پیٹی باتیں کرنے لگے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ ایک ادنی عقل رکھنے والا بھی ایسی باتیں کر سکتا ہے چنانچہ علماء کے جو بیان اس واقعہ کے بعد شائع ہوئے ہیں میں ان میں سے چند آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔مولا نا خان محمد صاحب نے اسلم قریشی کی برآمدگی کو ایک معجزہ قرار دیا اور ان کے بیان کو قادیانیوں اور انتظامیہ کی سازش قرار دیا۔ان کا آجانا معجزہ اور ان کا بیان سازش۔عطا المومن بخاری صاحب نے کہا پولیس اپنی روایت کے مطابق مرضی کی باتیں نکلوا کر قادیانیوں کو بری الذمہ کرنا چاہتی ہے اور قادیانیوں کے امیج کو بحال کرنے کے لئے نہایت مکروہ ڈرامہ رچایا گیا۔یعنی اس کی برآمدگی مکروہ ڈرامہ ہے۔اس کے قتل کا الزام کوئی ڈرامہ نہیں۔یہ سب جھوٹ ہے تو زندہ کیسے ہو گیا پھر ؟ مجلس ختم نبوت بلوچستان نے کہا کہ اسلام آباد میں بازیابی کا ڈرامہ تیار کیا گیا۔عطا المومن بخاری نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی کی ڈرامائی بر آمدگی مذہبی قوتوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔حاجی سید شاہ محمد قائم مقام امیر مجلس تحفظ بلوچستان نے اعلان کیا کہ مولانا اسلم قریشی کو فوراً مجلس کی تحویل میں دیا جائے کیونکہ انہیں پولیس کی تحویل میں قتل کر کے اسے خود کشی قرار دے دیا جائے گا اور ایک مولا ناسب پر بازی لے گئے ان کا نام ہے مولوی احمد الرحمن صاحب مرکزی نائب صدر تحفظ ختم نبوت فرماتے ہیں کہ ہم سو فیصد یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ کہانی جعلی اور فرضی ہے اور حکومت کے ذمہ دار لوگوں سے ہم اس موضوع پر مباھلہ کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اسلم قریشی ہے ہی نہیں۔مباھلے کا ایک چیلنج میں نے ان کو دیا ہے وہ دوسری طرف وہی کسی اور کو چیلنج دینے لگ گئے ہیں اس میں غالب کا یہ شعر یاد آ گیا کہ