خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 124
خطابات طاہر جلد دوم 124 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں۔وَلَوْاَنَّ أَهْلَ الْكِتَبِ امَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَرْنَا عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَلَاَدْ خَلَتْهُمْ جَنَّتِ النَّعِيمِ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرية وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِّن رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ ) (المائده (۲۲ - ۱۷) دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو سب سے زیادہ دوسرے مذاہب کے لئے حوصلہ دکھاتا ہے اور سب سے زیادہ دوسرے مذاہب کی طرف سے سب وشتم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس پہلو سے یہ دنیا کا مظلوم ترین مذہب ہے۔جہاں تک غیروں کا تعلق ہے ان سے بالعموم خیر کی توقع نہیں رکھی جاتی اس لئے اسلام کے خلاف اگر غیر مذاہب کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے،غلط الزام لگائے جاتے ہیں، اس کی بھیانک تصویر کھینچی جاتی ہے تو ان کی عداوت کے پیش نظر کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن سب سے زیادہ دکھ، سب سے زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ خود اہل اسلام کی طرف سے اس معاملہ میں ان کی تائید کی جارہی ہے اور اسلام کی ایک ایسی بھیانک تصویر آج دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہے جس کا اس دین سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے قلب مطہر پر آسمان سے نازل ہوا، آپ کے کردار میں ڈھلا اور ایک حسن کامل کے طور پر اس نے دنیا کے سامنے جلوہ دکھایا۔آج آپ جہاں بھی اسلام کا ذکر کرتے ہیں اس کے ساتھ جبر اور تشدد کے ایسے افسانے منسوب ہو چکے ہیں کہ ہر سنے والا سب سے پہلے اسلام کے نام سے چونکتا ہے اور بسا اوقات یہ سوال کرتا ہے کہ کونسا اسلام ہے جو دنیا کے سامنے تم پیش کر رہے ہو، ہے تو یہ جبر ہی مگر جبر کے کن طریقوں کی بات کر رہے ہو، ایران کے جبر کی بات کرتے ہو یا لیبیا کے جبر کی یا سعودی عرب کے جبر کی یا پاکستان کے جبر کی ؟ اس لئے وضاحت کے ساتھ ہمیں بتاؤ کہ تم کس اسلام کی نمائندگی کر رہے ہو؟ بسا اوقات جب مجھے مختلف ممالک کے دوروں میں اخباری نمائندوں سے گفت و شنید کا موقع ملا، ان کے سوالات کے جواب کے لئے میں ان کے سامنے حاضر ہوا تو ایک بھی موقع ایسا نہیں آیا جس میں اس قسم کے سوالات نہیں کئے گئے۔بدنصیبی یہی ہے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ آج