خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 125
خطابات طاہر جلد دوم 125 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء خود بہت سے مسلمان علماء اور بہت سی مسلمان حکومتیں اپنے بیان اور اپنے کردار کے ذریعہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اسلام جبر و تشدد کا سب سے بڑا علم بردار ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اسلام تو حسن کامل ہے۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو تمام مذاہب میں عظمت حوصلہ اور وسعت حوصلہ کے لحاظ سے غیر معمولی امتیاز اور غیر معمولی شان رکھتا ہے۔چنانچہ آج کے افتتاحی خطاب کے لئے مختصر میں نے اس مضمون کو اختیار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو یہ پس منظر بتا کر اس کی روشنی میں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلی بات جو قرآن کریم کی تعلیم سے متعلق غیر معمولی امتیاز کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کی جانی چاہئے وہ یہ ہے کہ یہ ایک ہی مذہب ہے اور بلاشبہ ایک ہی مذہب ہے جس کی الہی کتاب نے دیگر مذاہب کا عزت اور احترام کے ساتھ ذکر کیا ہے اور جب میں یہ کہتا ہوں تو تمام دنیا کی ان کتابوں پر نظر رکھ کر کہتا ہوں جو الہی کتب کے نام سے آج دنیا کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔بلا امتیاز ، بلاشبہ ایک بھی ایسی الہی مذہبی کتاب نہیں جسے اس مذہب کے ماننے والے اپنی الہی کتاب کے طور پر پیش کرتے ہوں، الہی کلام کے طور پر پیش کرتے ہوں اور اس کتاب میں دیگر مذاہب کا عزت اور احترام کے ساتھ ذکر موجود ہو۔سب سے پہلی بات جو ان مذاہب کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اکثر کتب اس رنگ میں صداقت کو پیش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں کہ گویا اس صداقت کے سوا جو اس مخصوص قوم کے اوپر نازل کی گئی تمام دنیا میں کلیۂ اندھیرا ہی اندھیرا ہے، کوئی ایک بھی روشنی کی کرن اس کے سوا انسان کے لئے کبھی آسمان سے اتاری نہیں گئی اور اس مذہب کے سوا باقی ہر طرف دجل اور فتنہ و فساداور شیطانی ہے اور اگر ہدایت ہے تو صرف وہی جو اس مذہب کی الہی کتاب میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جارہی ہے۔ذکر ملتا ہے تو تشدد کے ساتھ ، ذکر ملتا ہے تو شدید نفرت کے ساتھ ، یا پھر ذکر ہی نہیں ملتا۔قرآن کریم اس کے برعکس سب سے پہلے یہ عظیم الشان ہمہ گیر نظریہ پیش فرماتا ہے اور اس میں غیر معمولی امتیازی شان رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے ہر حصہ میں ہر قوم کے لئے نذیر اور بشیر بھیجے اور مومن کے لئے اس کے ایمان میں یہ شرط لازم قرار دیتا ہے کہ وہ منجملہ تمام انبیاء پر ایمان لائے اور دیگر تمام مذاہب کے بزرگوں کی عزت اور احترام کرے۔صرف یہی نہیں بلکہ جھوٹے خداؤں کا بھی عزت اور احترام کے ساتھ ذکر کرنا اسلام لازم قرار دیتا ہے یعنی اس حد تک کہ ان کے