خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 78
خطابات ناصر جلد دوم ZA اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء اس کو یہ پانی پورانہیں کر سکتا جب تک کہ آسمانوں سے اس کو یہ حکم نہ ہو کہ میرے بندے ناصر کی اس ضرورت کو پورا کر ورنہ نہیں کر سکتا۔اس لئے خدا نے مجھے اور تمہیں مخاطب کر کے ایک تو یہ کہا کہ جاؤ اور علوم کے دروازے تمہارے لئے کھولے گئے ہیں علم میں ترقی کرو اور دوسری طرف یہ کہا کہ قوانین قدرت کی موجودگی میں ہر انفرادی واقعہ جو ہوتا ہے مثلاً ایک پتے کا گرنا ایک پانی کا فائدہ پہنچانا وغیرہ وغیرہ ( آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے ) اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا آسمانوں سے حکم نازل ہوتا ہے اگر وہ نہ ہوتا تو انسان علمی ترقی نہ کر سکتا اور اگر یہ نہ ہوتا تو انسان کو دعاؤں کی ضرورت نہ ہوتی خدا تعالیٰ سے تعلق قائم نہ ہو سکتا تو اس شان والے اللہ پر ہم ایمان لاتے ہیں جہاں تک ہمارا مجموعی ذہن بھی نہیں پہنچ سکتا وہاں تک اس کے احکام پہنچتے ہیں کیونکہ اس کے احکام تو ہر جگہ پر ہیں جن ستاروں تک ہماری دور بینیں نہیں پہنچیں وہاں پر اس کا حکم پہنچ رہا ہے۔پس خدا نے دو قسم کے قوانین جاری کر کے دو احسان کئے ہیں۔قانون قدرت میں باندھ کر اس نے انسان پر علوم کے دروازے کھولے تحقیق کے دروازے کھولے، سائنس میں ترقی کے دروازے کھولے اور پھر اس کے باوجود ہر قسم کے فعل پر انفرادی حکم نازل کر کے اس نے ہمارے لئے دعاؤں کے رستے کھولے دعاؤں کے دروازے کھولے کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ درست ہے کہ یہ خدا کا قانون ہے کہ پانی پیاس کو بجھائے گا لیکن یہ بھی درست ہے کہ جب تک ہر گھونٹ کو حکم نہیں ہوگا۔وہ پیاس نہیں بجھائے گا میں نے بتایا ہے کہ بعض دفعہ زمیندار یا کوئی اور محنتی آدمی باہر سے محنت کر کے آتا ہے گرمیوں کے دن ہوتے ہیں پیاس لگی ہوئی ہوتی ہے اور وہ گلاس بھر کے منہ کولگا تا ہے زمینداروں کا گلاس ویسے بڑا بھی ہوتا ہے اور ختم کر جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے میری سیری ہو گئی ہے لیکن پانچ منٹ کے بعد وہ مر جاتا ہے۔وہی پانی اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے اس لئے کہ قانون قدرت نے تو اس کو حکم دیا تھا کہ انسان کی پیاس بجھاؤ لیکن اس گلاس کو خدا تعالیٰ کا آسمانوں سے حکم نہیں آیا تھا تو دو مختلف احکام الہی اس دنیا میں جاری اور ساری ہیں ایک کی وجہ سے علوم اور سائنس اور تحقیق میں ترقیات کے دروازے ہم پر کھولے گئے ہیں اور دوسرے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ دعائیں کرو اور میرے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ تمہیں کتنی ترقیات دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور اصل وہی چیز ہے جس