خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 79

خطابات ناصر جلد دوم ۷۹ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کی طرف میں اب آرہا ہوں آپ نے فرمایا کہ تمہیں دعا کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ تدبیر کی یعنی قانون قدرت کے مطابق دنیا سے خدمت لینے کی اور تمہیں خدمت لینے کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ دعاؤں کی۔آپ نے فرمایا کہ دعا کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ اور تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ تب تم دنیا سے آگے نکل جاؤ گے۔ہمارے نوجوان یہ چیز گرہ سے باندھ لیں کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے دنیا میں آگے نکلنے کے لئے پیدا کیا ہے پیچھے رہنے کے لئے پیدا نہیں کیا اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں اسی وجہ سے دنیا میں حسد بھی پیدا ہوتا ہے لیکن ہمیں اس سے کیا ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے غرض ہے۔یہ ہے نسخہ آگے نکلنے کا۔پس تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ اور دعا کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ۔ایک شخص ہمارے ساتھ گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا اس نے وظیفہ لیا تھا اور اور اس کے بہت اچھے ٹاپ کے نمبر تھے بڑا ذہین بچہ تھا۔ان دنوں میں۔i۔c۔s ( انڈین سول سروس Indian civil service ) ہوا کرتی تھی اور وہ کہتا تھا کہ میں نے سپیرئیر سروسز ( superior services) کا امتحان دینا ہے اور میں آگے نکلوں گا۔اس کے کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ذہن تو دیا تھا اور اس نے تدبیر کرنی شروع کی لیکن دعا کرنے کی بجائے اس نے خدا تعالیٰ کے نیک بندے کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔وہ ہمارے ساتھ الجھتا رہتا تھا۔سیکنڈ ائیر کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے اس پر تدبیر کے دروازے بند کر دیے اس کو جنون کا دورہ ہوا اور وہ جو سپیرئر سروسز کے امتحان کے خواب دیکھ رہا تھا وہ ایف۔اے۔میں فیل ہو گیا حالانکہ اس کو خدا نے دماغ دیا تھا لیکن کسی کے پاس دماغ ہونا اور چیز ہے اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی طرف سے دماغ کو آسمانوں سے حکم نازل ہونا کہ تو نے اس کی خدمت کرنی ہے یہ اور چیز ہے۔تو جہاں ہمارے لئے خدا نے اپنی مہربانی سے تحقیق اور سائنس میں آگے بڑھنے کے سامان پیدا کئے ہیں وہاں ہمارے لئے دعاؤں کے ذریعہ سے اپنے قریب کے سامان بھی پیدا کئے ہیں اور ایک احمدی کو ہر دو چیزوں کو مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے۔دعا کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لو اور تدبیر کو بائیں ہاتھ سے پکڑ لو اور دعا کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ اور تدبیر کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ ہر دو کو انتہا تک پہنچاؤ پھر دیکھو کہ دنیا تمہیں کس طرح پیچھے سے پکڑ کر پیچھے کو دھکیل سکتی ہے تم آگے ہی آگے بڑھنے کے لئے پیدا ہوئے ہو۔خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور دعا اور تدبیر کے ساتھ اس کی نعمتوں کے حصول کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرو۔یہ ہمارا عقیدہ