خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 77
خطابات ناصر جلد دوم 22 اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کا تمسخر نہیں کیا کرتے لیکن میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر میرے دشمن بے تحا شا آگ جلا کے مجھے اس میں پھینکیں تو خدا نے مجھے کہا ہے کہ وہ آگ تجھے نہیں جلائے گی۔یہ استثنائی بشارتیں جو ہیں یہ دعاؤں کے نتیجے میں، یہ استغفار کے نتیجہ میں، یہ تسی اور تحمید کے نتیجہ میں، یہ زندہ خدا سے زندہ تعلق کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں۔اگر قانون قدرت نہ ہوتا تو علمی ترقی کے دروازے بند ہو جاتے اور اگر استثنائی صورتیں نہ ہوتیں یا استثنائی صورتیں تو ہمیں نظر آتی ہیں ، ( میں دراصل کچھ تھوڑ اسا ادھر ہٹ گیا اپنے مضمون سے ) اگر قانونِ قدرت کے علاوہ ہر آگ کو جلانے کا حکم نہ ہوتا یعنی درخت کی ہر ٹہنی کو علاوہ قانونِ قدرت کے ایک خاص حکم آتا ہے کہ تو گر می پیدا کر ( یہ ہے اصل مضمون میرا) اور ہر پتے کو علیحدہ حکم آتا ہے کہ تو گر جا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے ایک دن مجھے یہی خیال آیا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر پتا خدا کے علم اور اس کی حکمت سے گرتا ہے تو ایک درخت کے پت جھڑ ہورہی تھی اور بعض پتے بالکل زرد ہو گئے تھے اور بعض ابھی سبز تھے میں نے ایک ٹہنی کا انتخاب کیا اس کے اوپر ایک پتا جو بالکل زرد تھا اور پتے کے ساتھ جو ایک چھوٹی سی پتلی سی ٹہنی ہوتی ہے جو بڑی ٹہنی کے لگی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی زرد تھی۔میں نے اس کو اپنی نظر میں رکھا میں نے کہا صبح دیکھیں گے کیا ہوتا ہے صبح میں اٹھا اس کے ساتھ کے جو پتے بالکل سبز تھے ان کو بھی میں نے نظر میں رکھا صبح میں نے جا کر دیکھا تو سبز پتا گرا ہوا تھا اور زرد اپنی جگہ پر تھا۔تب میں نے کہا کیا شان ہے ہمارے خدا کی۔قانون قدرت کے علاوہ ہر پتے کو علیحدہ حکم بھی آتا ہے اور ہر ٹہنی کو علیحدہ حکم بھی آتا ہے کہ تو اب یہ کر۔ہر لقمے کو ، غذا میں توازن ہے بہترین بیلنسڈ ڈائٹ (Balanced diet) جس کو کہتے ہیں آپ کے سامنے آتی ہے اور آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے اس کے ہر لقمے کو لقمے کے ہر ذرے کو خدا کا حکم آتا ہے کہ میرے اس بندے کا پیٹ بھر اور اس کے مادی جسم کی ضروریات کو پورا کر ورنہ وہ نہیں کرے گا۔تو دو قانونِ قدرت ، دو قانونِ الہی اس دنیا میں نظر آتے ہیں ایک کو ہم قانون قدرت کہتے ہیں اور دوسرے کو ہم قانونِ انفرادی کہہ سکتے ہیں۔اس قانون کے ماتحت ہر دفعہ حکم آتا ہے پانی کے ہر ذرے کو حکم آتا ہے میں میٹھا کھاتا نہیں اور یہ گرم گرم قہوہ پیتا ہوں۔آپ کو تعارف کرا دوں کہ جو قہوہ میں پیتا ہوں وہ بغیر میٹھے کے سبز چائے کا قہوہ ہوتا ہے تو جب میں پیتا ہوں مجھے ضرورت پڑتی ہے لیکن میں اس عقیدے کا ہوں کہ جوضرورت میں محسوس کرتا ہوں