خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 74

خطابات ناصر جلد دوم ۷۴ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ہو، پانی دیتے ہو، پہلے آرام نہیں کرتے ، پھر تم و تر آنے کا انتظار کرتے ہو، پھر تم ہل چلاتے ہو، زمین کو میدے کی طرح خشک کر دیتے ہو اور اپنا بیج ڈال آتے ہو کیا تم سمجھتے ہو کہ نتیجہ تمہاری کوششوں کی وجہ سے نکلے گا۔نہیں۔انتُمْ تَزْرَعُونَةً أَمْ نَحْنُ الزُّرِقُونَ بعض دفعہ بیج اُگتے ہی نہیں جب آگ جائیں تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ کئی ہزار تلیر اور شارک کو اللہ حکم دیتا ہے کہ اس کھیتی کے جا کر بیج کھا جاؤ اور وہ وہاں پہنچ جاتی ہیں وہ نظارہ عجیب ہوتا ہے۔پچھلے سال یہاں میری اپنی زمین میں کھیتی دیر کے بعد لگائی جب کام کرنے والے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کئی ہزار تلیر اور شارک جو چھوٹی چھوٹی روئیدگی ہو چکی ہے اور دانے نے جو چھوٹا سا منہ سر باہر نکالا ہے وہاں سے چونچ سے پکڑ کر اور کھینچ کر دانہ نکال لیتے ہیں دانہ کھا جاتے ہیں اور جو پتہ سا بنا ہوا تھا وہ پھینک دیتے ہیں۔ٹھیک۔کھانے دوان کو۔کیا کریں۔اللہ کی مرضی ہے میرا خیال ہے کہ وہ کوئی ستر فی صد دانے کھا گئے خدا تعالیٰ جس کو عقل دے اس کے لئے ان چیزوں میں یہ سارے سبق بھی ہوتے ہیں نا۔خیر ہم نے سوچا کہ دیکھتے ہیں اب کیا ہوتا ہے۔جو میں فیصد دانے رہ گئے تھے خدا تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ خوب بوٹا بناؤ تو عام طور پر اگر آٹھ دس شاخیں نکلتی ہیں تو وہاں ہیں چھپیں شاخیں نکل آئیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو کہا کہ تم خوب موٹے دانے ہو جاؤ چنانچہ دانے موٹے ہوگئے۔جن کھیتوں سے تلیر اور شارک نے ستر فی صد دانے نہیں کھائے تھے ان میں سے نکلی بنتیں من گندم اور جن کے ستر فی صد دانے شارکیں اور تلیر کھا گئے تھے ان میں سے نکلی اٹھائیس من۔دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں پہلے کہا کہ دیکھو تمہارا کوئی اختیار نہیں ہے اگر خدا کہتا ان کو تو وہ سارے دانے کھا جاتے انسان کا تو اختیار نہیں نا۔بہر حال جزا دینا خدا کے اختیار میں ہے دوسری جگہ فرمایا وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ (الدريت :۲۳) آسمانوں میں تمہارا رزق وَمَا تُوعَدُونَ (الدريیت :۲۳) اور اس جگہ یہاں بڑا عجیب نتیجہ نکالا ہے کہ تمہارا رزق آسمانی حکم ہے سے پیدا ہوتا ہے اس سے تم یہ سمجھ لو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ نے وعدے دیئے ہیں وہ پورے ہوں گے عجیب مثال دے کر ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر قائم رہنے اور بشاشت کے ساتھ اس بات کے سمجھنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ وعدہ کرے اور اسے پورا نہ کرے تو آسمان جب تمہارے زمین کے رزق کا فیصلہ کر رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ پاک ہستی تم