خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 73
خطابات ناصر جلد دوم ۷۳ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء میں اب اربوں بھی کہوں تو وہ وقت بھی زیادہ ہے ) الحسی کے ساتھ تعلق قائم نہ رہے تو انسان کی جان نکل جائے اور اگر القیوم کے ساتھ ہمارا تعلق نہ رہے تو جسم انسانی کی کائنات تہ و بالا ہو جائے ، اور اس کے اوپر قیامت آ جائے۔اگر انسان پاگل ہو جائے دست لگ جائیں اسہال لگ جائیں ، مفلوج ہو جائے دھڑ مارا جائے تو ساری عمر کے لئے ایک مصیبت بن جائے۔مختلف شکلوں میں یہ تعلق ٹومتا ہے اور خدا تعالیٰ بتاتا ہے کہ میں الحی القیوم ہوں تم زندہ اسی وقت تک رہ سکتے ہو جب تک کہ میرے ساتھ یعنی الحسی کے ساتھ تمہارا زندہ تعلق ہو اور تمہاری اپنی ذاتی انفرادی کائنات کا نظام اسی وقت تک درست رہ سکتا ہے جب تک کہ میں جو القیوم ہوں میرے ساتھ تمہارا تعلق قائم رہے۔اس خدا پر ہم ایمان لاتے ہیں۔میں آپ کو بتاوں قرآن کریم بڑی عجیب کتاب ہے اس کے اوپر غور کیا کریں آج میں یہی سوچ رہا تھا تو مجھے آیت یاد آئی پھر میں نے اپنے ذہن کے مطابق وہ نکالی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مثالیں تو بہت ساری ہیں لیکن میں ایک لے لیتا ہوں خدا تعالیٰ فرماتا ہے أَفَرَعَيْتُمُ مَّا تَحْرُثُونَ وَ انْتُمْ تَزْرَعُوْنَةَ أَمْ نَحْنُ الزرعُونَ (الواقعة : ۶۴ ، ۶۵) بڑا عجیب مضمون ہے فرمایا کہ بتاؤ کھیت کو جو تم تیار کرتے ہو بہت سارے زمیندار میرے سامنے بیٹھے ہیں تم کھیت کو تیار کرتے ہو اور اس میں بیج ڈال دیتے ہو تو کیا کھیتیاں تم اگاتے ہو؟ یعنی تمہارا یہ سمجھ لینا کہ ہم نے دس ہل چلا دیئے اور آٹھ دفعہ سہا گہ کر دیا اور میدے کی طرح زمین نرم کر دی اور گھر سے دانے لے کر گئے اور وہاں پھینک دیئے تو کیا کھیتی اگانے کا کام تم اپنے ذمے لے لیتے ہو اور اعلان کرتے ہو کہ تم کھیتی اگا رہے ہو تَحْرُثُونَ کے معنی عربی زبان میں زمین کو تیار کر کے بیج ڈال دینے کے ہیں یعنی ایک لفظ بدل کر وہاں پورا مضمون ، عجیب و غریب بیان کر دیا ہے اَفَرَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ بتاؤ تو سہی کہ تم جو کھیتی تیار کر کے بیچ میں دانے ڈال آتے ہو تو کیا اس کا جو نتیجہ نکلنا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔نہیں۔وَأَنْتُمُ تَزْرَعُونَة أَمْ نَحْنُ الزرعُونَ کیا ان دانوں میں روئیدگی پیدا کرنا تمہارا کام ہے یا ہمارا کام ہے۔میں نے قیوم خدا کے ساتھ تعلق کے بارے میں بتایا ہے کہ انسان کو سبق دینے کے لئے اور اس کو جھنجوڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا مظاہرہ کرتا ہے تَحْرُثُونَ کے معنی ہیں جیسا کے میں نے بتایا ہے زمین تیار کر کے بیج ڈال دینا تو فرمایا کہ تم زمین میں ہل چلاتے ہو، راتوں کو جاگتے ا