خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 569
خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۹ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء سے اپنی ذات کا منزہ ہونا ثابت کرے۔‘ (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۸) آپ فرماتے ہیں۔غور سے سنیں بڑا عجیب استدلال ہے:۔تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو۔اس میں ہر گز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیز وں۔“ میں داخل نہیں کیا۔(نسیم دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳ ۴۵ تا ۴۵۵) بہر حال مختصراً میں نے عرش کے متعلق بتا دیا۔کہیں الجھ جائے کوئی تو اس کو سمجھا دیں کہ عرش خدا تعالی کی تنزیہی صفات کا نام ہے اور کوئی مخلوق چیز نہیں۔نہ خدا مخلوق ہے کہ اس کو کسی تحت پوش کی ضرورت تھی جہاں وہ بیٹھ جائے اور کچھ باتیں اللہ کی خدائی تو غیر محدود ہے۔بولتے رہیں گے جب تک زندگی رہی۔اب چار بج گئے ہیں اور میں بھی تھوڑا سا تھک گیا ہوں۔اس لئے اب دعا کریں گے۔دعا ہماری جو خدا ہم سے چاہتا ہے وہ بڑی وسعتوں والی دعا ہے۔یعنی جب یہ کہا اللہ نے کہ ہر ایک سے پیار کرنا کسی سے دشمنی نہ کرنا تو ہماری دعا کے دائرہ میں ساری دنیا آ جاتی ہے۔سارے انسان نہیں میں کہہ رہا ساری دنیا آجاتی ہے۔ساری کائنات آجاتی ہے اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رَحْمَةُ الْإِنْسَانِ کی شکل میں نہیں پیش کیا بلکہ رحمۃ للعالمین کی شکل میں پیش کیا ہے۔تو ہمارا یہ حق ہے اور ہمارا یہ فرض ہے اور کائنات کی ہرشی کا یہ حق ہے کہ ہم ان کے لئے دعا کریں۔مثلاًشی میں سے میں ایک مثال دے دوں۔ایٹم کے ذرے کا یہ حق ہے کہ جماعت احمد یہ خدا کے حضور عاجزانہ دعا کرے اور ایٹم کے ذرے کا ہم سے مطالبہ ہے کہ دعا کرو کہ اے خدا انسان کو ایٹم کی طاقت کے غلط استعمال سے بچاتا کہ ایٹم کے ذرے کو دُ کھ نہ پہنچے کہ خدا نے پیدا تو مجھے خدمت کے لئے کیا تھا اور بنادیا مجھے انسان کے ہاتھ انسان کا دشمن۔تو اسلام نے یہ اعلان کر کے سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ( الجاثيه : ۱۴) بہت سے احسان ہیں۔ایک بڑا احسان کائنات کی ہر شئے پر یہ کیا کہ ان کے حقوق محدود کر دیئے مبین کر دیئے۔بیان کر دیئے اور محفوظ کر دیئے اپنی اس عظیم شریعت کے اندر۔