خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 570 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 570

خطابات ناصر جلد دوم ۵۷۰ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء تو دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کا ئنات کے ہر حصے کو اس کا حق ادا ہو جانے کے سامان پیدا کرے کہ انسان غلط استعمال سے ان کے حقوق کو غصب کرنے والا نہ ہو۔پھر چونکہ وہ انسان کے لئے بنائی گئی ہے یہ ساری مخلوقات انسان کا یہ حق ہے کہ ہم ان کے لئے دعا کریں کہ وہ اپنے ہاتھ سے یا کسی غیر کے ہاتھ سے ہلاکت کا منہ نہ دیکھیں بلکہ حیات اور زندگی اور خدا تعالیٰ کا پیار اور خدا تعالیٰ کا نور اور خدا تعالیٰ کا حسن دیکھنے والے ہوں اور اپنی بدقسمتی سے نجات حاصل کر کے اور آزاد ہوکرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وہ وارث بنیں۔پھر وہ ہیں ہم سب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔ہم سب کا یہ حق ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے دعائیں کریں اور کبھی بھی امت مسلمہ کو اپنی دعاؤں میں نظر انداز نہ کریں۔اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کے لئے خوشحالی کے سامان پیدا کرے اور مختلف وقتوں میں جو انسانی زندگی میں سختیاں اور مصیبتیں آ جاتی ہیں۔کبھی اپنے ہی ہاتھ سے بنائی ہوئی کبھی غیروں کے منصوبوں کے نتیجہ میں وہ سب سختیاں اور وہ سب مصیبتیں خدا دور کر دے اور وہ حقیقی بشاشت وہ انشراح صدر جو ایک مسلم کے سینے میں پیدا ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے، وہ انشراح صدر پیدا ہو۔آپ نے فرمایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس دل میں بشاشت ایمانی پیدا ہو جائے وہ ہلاکت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے تو سب کے دلوں میں ہی یہ بشاشت پیدا ہو۔ہم اپنے رب کریم کے احکام کو سمجھنے والے اور یا در کھنے والے اور ان پر عمل کرنے والے بن جائیں اور پھر یہ جماعت احمد یہ ہے۔تعداد میں مختصر سی جماعت۔اگر سارے انسانوں کی مردم شماری کی جائے تو بہت کم ہیں ہم۔مانتے ہیں۔طبہ نہیں۔کوئی ہچکچاہٹ نہیں اسے تسلیم کرنے میں تھوڑے ہیں تعداد میں۔پیسے کے لحاظ سے دنیا میں سینکڑوں شاید ایسے امیر لوگ ہوں کہ جن کی دولت ر جماعت احمدیہ کی ساری دولت سے بھی زیادہ ہے لیکن جس کی خوشیاں جماعت احمدیہ کی خوشیوں سے کروڑواں حصہ بھی نہیں ہیں۔مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔تسلیم کرتے ہیں۔دنیا ہمیں نہیں سمجھتی۔یہ دنیا کی بدقسمتی۔دنیا ہمیں نہیں سمجھتی۔حقارت سے ہمیں دیکھتی ہے۔ہم انہیں سمجھتے ہیں اور درد سے ان کے لئے دعائیں کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا کرے اور ہمیں توفیق دے کہ جو ان کے حق ہیں۔