خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 568

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء صفات کا اظہار کرتا ہوں کہ جو کسی اور مخلوق کے ساتھ ان کی کسی ایک صفت کے ساتھ مشابہ نہیں ہیں۔جن میں میں یکتا ہوں۔کسی پہلو سے بھی نہیں۔دوسرے پتہ نہیں اس میں آیا ہے اس اختصار میں کہ نہیں۔میں زبانی بتا دوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جن میں اشتباہ ہے اُن میں بھی بڑا ناقص اشتباہ ہے۔بنیادی طور پر مثلاً انسان دیکھنے کے لئے اپنی آنکھ کا محتاج ہے۔آنکھ سے ہی دیکھتے ہیں نا آپ۔موتیا پڑ جائے۔دُکھنے لگ جائیں پیچھے و با آگئی تھی آنکھوں کی مصیبت ایک پڑ جاتی ہے آنکھ خدا نے ہمیں دی وہ لیکن بہر حال بینائی ہمیں دی۔خدا د یکھتا ہے بغیر آنکھ کے اور خدا کی بینائی جو ہے وہ غیر محد دو ہے۔اب یہاں وہ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ان کے چہرے مجھے نظر نہیں آرہے۔بس یہ پتہ لگ رہا ہے کہ میرے جیسے انسان ہیں وہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے۔ایک میل آگے چلے جائیں تو بعض دفعہ جھاڑی اور انسان میں پتہ نہیں لگتا۔شکاری جنگلوں میں جاتے ہیں کئی حادثات ہو جاتے ہیں۔ان کو ہرن اور انسان کے اندر پتہ ہی نہیں لگتا۔یہ آنکھ جو انسان اور ہرن میں فرق نہ کر سکے اور کہے مجھے۔میرے پاس بھی بینائی ہے اور خدا بھی دیکھنے والا ہے اس لئے ہم برا بر ہو گئے۔نعوذ بالله من ذلک مضحکہ خیز بات ہو جائے گی۔تو جہاں مشابہت ہے وہاں بھی محدود دائرہ میں ناقص مشابہت ہے اور جہاں مشابہت نہیں ہے۔تنزیہی صفات میں مثلاً خدا تعالیٰ عظیم ہے۔اُس عظمت کو کوئی انسان پہنچ ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ جو ہے وہ یہ جو کائنات ہے یہ خدا تعالیٰ کا وجود جہاں اپنے جلوے ظاہر کر رہا ہے اُس کو میں کیا کہوں اب۔کائنات کے علاوہ میرے ذہن میں کوئی لفظ نہیں آ رہا۔بہر حال کا ئنات اس میں ایک ذرہ کے برابر ہے اور اس میں مخلوق کوئی نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہر آر ظاہر ہورہے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور خدا کا تمام مخلوقات سے وراء الوراء ہونا اور سب سے برتر اور اعلیٰ اور دور تر ہونا اور اس تنزہ اور تقدس کے مقام پر ہونا جو مخلوقیت سے دور ہے عرش کے نام سے پکارا جاتا ہے۔( یہ صفت ہے عرش۔ناقل ) اس صفت کا نام تنزیہی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا تاوہ اس سے اپنی توحید اور اپنا وحدہ لاشریک ہونا اور مخلوق کی صفات