خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 526
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۶ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء اور اب ہم پندرہویں صدی میں خدا تعالیٰ کے بڑے عظیم نشانوں کو دیکھنے کے لئے داخل ہو چکے ہیں۔اب ایک صدی کا ایک نعرہ نہیں۔وہ تو گزشتہ نعمتوں کے شکر کے طور پر ان لوگوں کی طرف سے تھا جو اس جہان سے گزر چکے ہیں۔ہم نے ذکر کیا ہے۔جو سال گزرا ہے اس صدی کا ، اس میں اللہ تعالیٰ نے بے انتہا نشان دکھائے ہیں اور بڑی عظمتوں کے نشان۔مثلاً سپین میں سات سو پینتالیس سال کے بعد اللہ کا گھر مسجد مکمل ہوگئی۔الحمد لله۔اس کے میناروں کی شکل بھی بڑی خوبصورت ہے۔پھر ہم پھیلے مشرق کی طرف۔ابھی تک ادھر نہیں گئے تھے۔جاپان میں اللہ تعالیٰ نے ایک گھر کی خرید کا سامان پیدا کر دیا جس کے لئے اس نے خود رقم اکٹھی کی ہوئی تھی اور جب مجھ سے پوچھا گیا کہ مکان مل رہا ہے۔تو میں نے پہلا سوال یہ کیا کہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ تو مجھے دفتر نے جواب دیا کہ پیسے موجود ہیں۔خدا تعالیٰ عالم الغیوب ہے اور اس نے غیر ممالک کی جماعتوں کو اس رقم کی ادائیگی کی توفیق دے دی ہے۔تو اس سے تو کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔جو ابدا لآباد تک ہونے والی چیزیں ہیں وہ اس کے علم میں ہیں وہ پیسے مل گئے۔بڑی وسعت پیدا ہو رہی ہے کینیڈا اور امریکہ میں۔بہت وسعت پیدا ہو رہی ہے افریقہ کے بہت سے حصوں میں۔ابھی ہر جگہ تو ہم نہیں پہنچ سکے لیکن جہاں پہنچے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے نشان ظاہر ہورہے ہیں۔اور یہ سب پیار اور محبت اور خدمت کا نتیجہ ہے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا یہ خیال، عقیدہ یا یہ پیشگوئی جو مرضی سمجھ لیں، یہ تھا کہ آئندہ دنیا میں افریقن ممالک کے ہاتھ میں دنیا کی لیڈرشپ ہوگی اور میں نے ان کو یہی کہا۔میں نے کہا کہ ہمارا یہ اندازہ ہے کہ مستقبل میں نوع انسان کی قیادت تمہارے ہاتھ میں ہوگی۔ایک شرط ہے کہ اگر تمہارے ہاتھ میں احمدیت کا جھنڈا ہوگا تو نوع انسانی کی قیادت بھی تمہارے ہاتھ میں ہوگی۔احمدیت کو وہ قبول کر رہے ہیں بڑی تیزی کے ساتھ اور پہلی خوشکن تبدیلی ان کے اندر یہ پیدا ہوتی ہے کہ احمدیت کو قبول کرنے کے ساتھ ہی وہ عاشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن جاتے ہیں یعنی اس طرح عشق کے ساتھ درود بھیجتے ہیں کہ ان کو چین نہیں آتا درود پڑھے بغیر۔اپنی لاریوں کے اوپر لاؤڈ سپیکر لگائے شہروں کے گلی کوچوں میں صَلِّ عَلی نَبِيِّنَا صِلِّ عَلى محمّدٍ - گاتے پھر ر۔