خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 525
خطابات ناصر جلد دوم ۵۲۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء بنیاد لَا إِلهَ إِلَّا اللہ ہے۔اسی طرح جماعت احمدیہ کا دل لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ہے اس لئے اس ستارے کے دل ( وسط ) میں لَا اِلهَ إِلَّا اللہ لکھا گیا ہے ( نعرے ) یہ ستارہ چودہ کونے کا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے۔ایک۔وہ یہ کہ امت مسلمہ کی زندگی کے ایک دور میں ستارہ چھ کونے کا تھا۔پھر ایک نیا دور آیا اور افق حیات امت پر آٹھ کونے کا ستارہ بلند ہوا۔پھر ایک تیسرا دور آیا جب دس کونے کا ستارہ اُبھرا۔پھر چوتھا دور آیا جس میں بارہ کونے کا ستارہ نمودار ہوا۔قدیم عمارتوں پر ان کے نشان باقی ہیں۔اور اب چونکہ چودہ صدیاں گزرگئیں، اس واسطے میں نے مناسب سمجھا کہ چودہ کونوں والا ستارہ جماعت کے پیش کروں۔( حاضرین نے اس موقع پر نعرہ تکبیر بلند کیا تو حضور نے فرمایا ) ذرا ٹھہریں ایک بات اور سن لیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، آپ نے غزوہ خندق کے موقع پر تین دفعہ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے اس وقت اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔پانچ سات دفعہ کے قریب ( تھوڑے وقت میں جو تلاش کر چکا ہوں) آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا سنتِ نبوی یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی عظیم نشان دیکھا جائے تو اللہ اکبر کا نعرہ لگایا جائے تا کہ ہر چیز خدا کی عظمت کی طرف اور کبریائی کی طرف منسوب ہو اور انسان کے دل میں کوئی ریاء اور شیطنت نہ پیدا ہو تکبر نہ پیدا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک زندہ نبی ہیں اور آپ کے طفیل ہماری زندگی کی چودہ صدیوں میں ہر صدی نے خدا تعالیٰ کے عظیم نشان دیکھے ہیں۔اب نے نہیں، دونے نہیں ہر صدی نے۔ہر صدی نے زبانِ حال سے اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا۔اس واسطے ان چودہ کونوں میں اللہ اکبر“ لکھوا دیا گیا ہے جو آپ کے سامنے ہے۔اب لگاؤ نعرے (سب سے پہلے حضور نے از خود اللہ اکبر کا نعرہ نہایت پر شوکت آواز میں لگایا اور پھر حاضرین جلسہ کی طرف سے نعرے بلند ہوئے )۔پھر حضور انور نے فرمایا۔اب ورد کریں میرے ساتھ مل کے۔میں لَا إِلهُ إِلَّا اللہ اور اللہ اکبر کا ورد کروں گا۔ورد کرنا ہے ، نعرے نہیں لگانے۔(چنانچہ تمام حاضرین نے حضور کی اقتداء میں پندرہ بار لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کا ورد کیا اور چودہ بار اللہ اکبر کا ) وه پھر فرمایا۔ہر صدی کی طرف سے ہم سب نے اللہ اکبر“ کا ورد کیا اور لَا إِلهُ إِلَّا اللہ کا ورد کیا