خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 478

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء پتہ متعلق۔وہاں میں جانہیں سکا لیکن میرے ہوتے ہوئے اس پر پورا قبضہ ہو چکا تھا۔نبی آئی لینڈ میں بڑی شاہراہ پر ایک بہت شاندار Complex یعنی مسجد بھی ہے اور مشن ہاؤس بھی ہے۔پن نہیں کتنی دکانیں بھی انہوں نے بنالی ہیں۔نائیجیریا میں دو نئے مشن ہاؤسز۔چار نئے سیکنڈری سکول اور ایک نئے ہسپتال نے کام شروع کیا ہے۔نائیجیریا میں جماعت کی طرف سے لیگوس (جو ان کا موجودہ دارالخلافہ ہے ) سے قریباً بارہ میل دور ایک بڑی شاہراہ پر احمد یہ سیٹلمنٹ کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔وہاں ایک مشن ہاؤس اور ایک ہسپتال بھی بنایا جا رہا ہے اس جگہ بعض احمدی دوستوں نے اپنے مکانات تعمیر کئے ہیں اور میں بعض حصوں کا سنگ بنیاد بھی رکھ کے آیا ہوں۔اسی طرح غانا کے تین مقامات پر زمینیں لی گئی ہیں اور بڑی تیزی سے وہاں کام ہو رہا ہے۔یوگنڈا میں سیاسی حالات کی وجہ سے ہماری تبلیغ رک گئی تھی۔پھر پچھلے سال شروع ہو گئی اللہ کے فضل سے اور وہاں کے عوام کا بڑا رجوع ہے جماعت احمدیہ کی طرف اور وہ بڑے ذہین ہیں۔بڑی دور کی سوچتے ہیں۔انہوں نے دور کی سوچی اور ہمیں تار دی کہ فوری طور پر ہم چھ طالب علم دینی تعلیم کے لئے ربوہ بھجوار ہے ہیں کیونکہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے ملک کے حالات کس وقت کیا پلٹا کھا جائیں۔ہمارا ایک سیکنڈری سکول وہاں کام کر رہا ہے۔جاپان کے ایک سہ ماہی رسالہ Voice of Islam شائع ہونا شروع ہو چکا ہے۔ابھی چھوٹا ہے بڑھ جائے گا انشاء اللہ۔انڈونیشیا میں بھی مربی تیار کرنے کے لئے انتظام کر دیا گیا ہے۔وقف جدید وقف جدید کے ۶۶ معلمین کام کر رہے ہیں اور جو مانگ ہے آپ کی جو میرے سامنے بیٹھے ہو وہ کئی سو کی ہے۔اب مجھے آپ بتائیں کہ میں کئی سو معلم چھیاسٹھ میں سے کیسے پورا کر دوں۔کیونکہ معلم بچے دے کے تو اپنی تعداد نہیں بڑھاتا جس طرح بھیڑیں دے دیتی ہیں۔آپ تھک گئے ہوں ایک لطیفہ آپ کو سنا دوں۔میں نے ایک وقت میں کئی سال ہوئے آٹھ بھیر میں خریدیں یعنی یہ واقعہ ہے۔سات مادہ اور ایک نر۔ان آٹھ میں سے ہیں مرگئیں اور انیس میں نے بیچ دیں اور پچپیں میں نے کھا لیں اور اکیس بائیس میرے پاس ہیں۔معلم نہیں اس