خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 479
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء طرح کر سکتے۔آپ کو اپنے بچے بطور واقف دینے پڑیں گے۔معلم بنانے کے لئے تب کام چلے گا۔فضل عمر فاؤنڈیشن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبات فاؤنڈیشن نے کتابی شکل میں شائع کئے ہیں۔ان سے بھی جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ان کے اندر بڑے علوم بھرے ہوئے ہیں۔انعامی مقابلہ جات کے سلسلہ میں اہل علم اصحاب سے بعض مقالے موصول ہوئے ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے ہاں انہوں نے اس سال جو نمایاں کام کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو بیرونی ممالک سے آئے ہوئے ہیں ان کے لئے دو زبانوں میں انگریزی اور انڈونیشین میں ترجمہ کا انتظام کیا ہے۔یہ دوکھو کھے ادھر بنے ہوئے ہیں۔یہاں چاٹ نہیں سکتی۔یہاں وہ ترجمہ کرنے والے بیٹھے ہوئے ہیں جو تر جمہ ساتھ ساتھ کرتے ہیں وہ بالکل بند ہیں۔آواز ان کی باہر نہیں جاتی انہوں نے کانوں کے ساتھ یہ لگائے ہوئے ہیں۔(غیر ملکیوں نے ) جو انگریزی جانتے ہیں یا انڈونیشین۔اور یہ مترجم ان کو اسی وقت ترجمہ کر کے بتاتے جاتے ہیں۔اس کی ابتدا ہوگئی ہے اور اس کا اندازہ جب باہر سے مختلف ایجنسیز سے لگایا گیا تو ان کا خیال تھا کہ ہم شاید ڈیڑھ سو ایسے ہیں چھپیں لاکھ میں تیار کر کے دیں گے۔تو اللہ بھلا کرے احمدی انجینئر ز کا انہوں نے کہا ہم بہت ستا بنا سکتے ہیں پیسے نہ ضائع کریں۔چنانچہ میرا خیال ہے یہ دو سو اٹھائیس ہیں اور اسی ہزار روپے میں انہوں نے تیار کر دیئے ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔اور انشاء اللہ یہ بھی بڑھ جائے گا۔پھر اور بھی ہو جائیں گے۔ہمیں تو ڈرایا گیا تھا کئی سال سے تجویز تھی لیکن باہر کی ایجنسیز اننار و پیہ مانگتی تھیں کہ جرات نہیں ہوئی۔( تین بچے کہتے ہیں کہ ہم گم گئے ہیں اور اگر تین باپ یہ سمجھتے ہوں کہ وہ گم ہو گئے ہیں اپنے بچوں سے تو یہاں آجائیں) صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی برکت ڈالی۔جو گوٹن برگ میں مسجد بنی ایک پہاڑی کی چوٹی کے او پر بہت خوش نما جگہ۔آدھے شہر سے نظر آتی ہے رات کو بھی دن کو بھی اور ایک مرکز بن گیا تبلیغ کا وہ صد سالہ جو بلی فنڈ جو یورپ میں جماعت احمدیہ نے اکٹھا کیا تھا اس فنڈ سے یہ مسجد بنی۔