خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 477
خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۰ء اور جو بنوار ہے ہیں ان کو بھی اس میں یہ بھی لکھنا پڑتا ہے کہ اتنی دیر میں میں ٹھیکیدار تیار کر کے دوں گا۔اس نے یہ معاہدہ لکھا ہے کہ میں دس مہینے میں یہ مسجد اور مشن ہاؤس تیار کر دوں گا اور اگر کسی وجہ سے دیر ہوئی تو ایک مہینے سے زیادہ دیر نہیں ہوگی یعنی زیادہ سے زیادہ وہ گیارہ مہینے میں تیار ہو جائے گی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ انشاء اللہ انشاء اللہ انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے آئندہ سال کے جلسہ سالانہ سے قبل وہ مسجد اس بات کے لئے تیار ہو چکی ہوگی کہ خلیفہ وقت کسی وقت وہاں جا کے اس کا آفیشل افتتاح کر دے۔دعائیں کریں کہ بڑی برکتوں کا موجب ہو اور اس علاقہ میں اسلام کو پھیلانے کا موجب ہو۔( نعرے) گیا نا جنوبی امریکہ میں ایڈنبرگ ایک مقام ہے وہاں ایک مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔امریکہ میں ایک احمدی دوست ہیں جہاں تک مجھے اطلاع ہے مسجد قریبا تعمیر کر چکے ہیں ایک نئی مسجد کی تعمیر امسال مکمل ہوئی ہے۔جب میں گیا ہوں اس وقت وہ کہتے تھے قریباً تیار ہے۔سپین یورپ کے سب سے جنوبی حصہ میں ہے۔سب سے دور اس کے مخالف سمت ناروے ہے یعنی شمال میں۔سپین جنوب میں ہے وہ شمال میں ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک انتظام کیا ہے بہت بڑی عمارت جو خرید لی گئی ہے اور یکم اگست کو اس مسجد کا جس کا نام میں نے مسجد نور رکھا میں نے افتتاح کیا تو دو بڑے مقامات پر مساجد کا اور مساجد کی برکات کے پھیلانے کا انتظام سال گزشتہ کے اندر ہو گیا۔اسی طرح مغربی اور مشرقی افریقہ میں تو اتنی مساجد بنتی ہیں کہ وہ ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے ہر مہینے مجھے خط ملتے ہیں وہاں سے کہ فلاں جگہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا فلاں جگہ بن گئی۔افتتاح ہو گیا۔کام شروع کر دیا۔تحریک جدید کے ماتحت مشن ہاؤسز گیانا جارج ٹاؤن میں تعمیر ہو گیا نیا مشن ہاؤس۔انگلستان میں پانچ مقامات پر جہاں ہمارے احمدیوں کی کافی آبادیاں تھیں لیکن مل بیٹھنے، اجتماعی، پروگرام کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔وہاں پانچ عمارتیں خرید کر پانچ مراکز قائم کر دیئے گئے۔ان میں سے ایک کے علاوہ باقی چار کا میں نے افتتاح کیا۔جب میں وہاں تھا اس سال کی گرمیوں میں۔کچھ ٹیکنیکل تھوڑا سا سقم تھا برمنگھم کے