خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 447
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۷ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کی نگاہ نے ایک پاک اور مطہر اور تزکیہ یافتہ پایا ان کو بغیر نشانوں کے نہیں چھوڑا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ایتیم پھر دوسروں کے لئے محرم بنے انہوں نے کہا دیکھو تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ایسا رسول ہے جو آیات تمہیں بتائے گا۔ہمارے پاس آؤ ، ہماری زندگی کو دیکھو، ہمارے ارد گرد دیکھو ، آیات ہر قسم کی ظاہر ہو رہی ہیں۔والكتب یہ جو کتاب ہے یہ تو مضمون ویسے ساری دنیا کو ہی اپنے اندر سمیٹنے والا ہے قرآن کریم کی تعلیم جو ہر شعبہ زندگی کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کے متعلق حکم دیا قرآن کریم نے یا قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔مثلاً کھانا ، کتنے لوگ ہیں شرم آتی ہے مجھے آپ سے بھی پوچھتے ہوئے کہ آپ سے آپ تو بڑے آگے نکل گئے دین میں، لیکن ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے جو کھانے کے متعلق سوچتے ہیں کیا ہمیں تعلیم دی اتنی چھوٹی بات کہ قل بیمینک و قُل مِمَّا يَلِیگ اس وقت تھال میں سارے کھاتے تھے کہا دائیں ہاتھ سے کھا اور جو سامنے تیرے کھانا پڑا ہوا ہے پرات میں اسی میں سے لقمہ لوادھر ادھر بوٹیوں کی تلاش نہ کر دوسرے کو متلی شروع ہو جائے گی۔یعنی اس کو با اخلاق با ادب بنایا دوسرے کو گھن کی تکلیف سے بچایا بڑے احسان کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ پر۔پہلے اس سے کہ دیا تھا کہ گندے ہاتھ لے کے۔مثلاً آدمی ورکشاپ میں کام کرتا ہے کوئی اعتراض کی بات نہیں گریں لگی ہوئی ہوتی ہے موبل آئل لگا ہوا ہے موٹر ورکشاپ میں اور اسی طرح ہاتھ دھوئے بغیر آکر وہ خوراک والے شوربے میں سے بوٹیاں یا لقمے لینے شروع کر دے دوسرے آدمی کو گھن آئے گی۔کہا ہاتھ دھو پہلے آئے۔پاکیزگی کے متعلق اتنی تفصیل سے تعلیم دی گئی ہے جسم کے حصے ہیں میں نے اسی مضمون کے سلسلے میں بہت سارے حوالے نکلوالیا کرتا ہوں۔وقت کے لحاظ سے مجھے پتا ہوتا ہے کام نہیں آئیں گے علم بڑھ جاتا ہے زبان کی پاکیزگی ، اب زبان کی پاکیزگی کئی طرح کی ہے کتاب کے متعلق یعنی جو تعلیم قرآن کریم نے دی الکتب ہے ناں اس کی تفاصیل بتا رہا ہوں، جھوٹ نہ بول ہر وقت سچ نہ بول ، موقع اور محل کے مطابق بات کر محض سچ نہیں بولنا بلکہ قول سدید کرنا ہے بعض آدمی اس طرح سچ بولتے ہیں وہ تھوڑا سا پیچ دار بھی کر دیتے ہیں اس کو یہ نہیں کرنا اور طیب کہنا ہے اور قول حمید یعنی ایسی بات کہو، منہ سے نکالو اپنے ، معاشرے میں ، کہ دنیا تمہاری