خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 446
خطابات ناصر جلد دوم ۴۴۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء بڑ از بر دست تھا اور واقعہ میں آیت تھا خدا کی۔یہ بھی آیت ہے اور شق قمر جو ہے وہ بھی آیت ہے قرآن کریم کی اصطلاح میں یعنی جو انبیاء علیہم السلام یا دوسرے برگزیدہ اولیاء کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ معجزات اور نشانات آسمانی دکھاتا ہے ان کو بھی قرآنی اصطلاح میں آیت کہا جاتا ہے تو اس لحاظ سے دو بنیادی طور پر ختمیں ہیں آیات کی۔ایک وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو اس کا ئنات میں ظاہر ہوتے اور عدم سے وجود میں اور وجود سے عدم میں تبدیلی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں وہ جلوے اسی کا ئنات میں، مادی کائنات میں پیدا ہوتے ہیں اور حرکت پیدا کر دیتے ہیں عمر کو ایک دن بڑھا دیا ہر صبح سورج اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ہر صبح جو سورج چڑھا اس نے ایک دن آپ کی عمر کا بڑھا دیا اور یہ ہمارا محاورہ ہے لیکن موت کہتی ہے کہ تمہارا ایک دن زندگی کا کم کر دیا۔موت نے اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھنا ہے ، ہم نے اپنے نقطہ نگاہ سے دیکھنا۔ہم کہتے ہیں ہمارا ایک دن بڑھا دیا۔موت مسکرا کے کہتی ہے ایک دن تمہارا ، عمر کا کم کر دیا اور اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا أَيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرُّ ( القمر : ۳۲) اى طرح کے الفاظ ہیں ذہن سے نکل گئے بہر حال ہر دو کو اللہ تعالیٰ نے آیات کہا ہے تو يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایت کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبی دنیا کو انسان کو ہر مرد کو ہر عورت کو امریکہ میں رہنے والے کو اور افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والوں کو اور عربی بولنے والے علاقوں میں رہنے والوں کو اور رشیا میں رہنے والوں کو آیات بتائے گا پہلے کب یہ آیات بتائی گئی ہیں ہمیں ہمیں کب کہا گیا کہ بے تو جگہی سے گزر نہ جایا کرو آیات اللہ کے پاس سے بلکہ ہر ظہور ہر ایک چمکا ر خدا تعالیٰ کی صفت کی خدا تعالیٰ کی طرف نشاندھی کرنے والی ہے۔وہ تمہیں بلاتی ہے تمہارے پیدا کرنے والے رب کریم کی طرف اس کی طرف توجہ کرو اور اسی سے خیر مانگو خیر پاؤ۔دوری کی راہوں کو اختیار نہ کرو اور اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک ہی نبی ہیں جنہوں نے حیات جاودانی پائی ہے اپنے رب کریم سے ان کی قوت قدسیہ کے نتیجے میں جس طرح ہزاروں زبر دست معجزات اور آیات اس زندگی نے جو ظاہری جسمانی زندگی تھی ظاہر ہوئے اسی طرح آخری زندگی میں ظاہر ہورہے ہیں ہماری تاریخ بھری پڑی ہے بہت ساری کتابیں بدقسمتی سے ضائع ہو گئیں ہیں لیکن جن کو خدا تعالیٰ