خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 408 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 408

خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء ہے اُس سے زیادہ مجھے تھیوریٹیکل سائنس میں دلچسپی ہے اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں بار بار بتایا کہ جو میری صفات کے جلوے اس دنیا میں ظاہر ہورہے ہیں جو گندم اُگ رہی ہے جو کانوں کے اندر چیزیں پیدا ہو رہی ہیں یہ میری عظمت اور شان اور کبریائی اور وحدانیت کی دلیلیں ہیں ان کو کھو دو ان کا علم حاصل کرو۔پھر پتہ لگے گا تمہیں کہ میں کس عظمت اور شان کی ہستی ہوں۔اور جو یہ کائنات ہے اس کے متعلق خدا نے کہا سات آسمان اور ایک زمین پر مشتمل جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ ایک زمین باقی تو گرہ گروہ اپنا جانے۔سات آسمان ہوئے نا۔قرآن کہتا ہے کہ: إِنَّا زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِبِ ( الصفت :۷) کہ ان سات آسمانوں میں سے پہلا آسمان وہ ہے کہ سارے ستارے اس کے اندر ہیں دوسرا جو آسمان ہے وہاں ستارہ نہیں کوئی سمجھے ستاروں کی جو خوبصورتی آپ کو نظر نہیں آتی۔بارش ہوئی ہوئی ہو اور مطلع صاف ہو بالکل آسمان میں فضا میں گردو غبار نہ ہو اور دس ستاروں کی جگہ کروڑوں ستارے آنکھ ہماری دیکھ رہی ہو بالکل اور اس کی تصویریں بن رہی ہوں اور ایک پیٹرن ہو خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان ہمارے تصور میں۔جہاں تک ہماری نظر پہنچی وہ تو بڑا چھوٹا حصہ ہے نا۔جہاں تک سائنسدانوں کی فلکیات سے تعلق رکھنے والوں کی تحقیق پہنچی وہ یہ ہے کہ یہ جو سماء الدنیا ہے پہلا آسمان اس میں ایک تو قبیلے ہیں ستاروں کے اُس کو یہ کہتے ہیں گلیکسی (Galaxy) اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے آسمان میں ستارے ہیں اس یہ تو ستاروں کے سارے قبائل پہلے آسمان میں ہیں اور قبیلے کا نام ہے گلیکسی (Galaxy)اور سائنسدان کہتا ہے کہ گلیکسی کے اعداد و شمار نہیں غیر محدود ہیں اُن کے علم کے لحاظ سے غیر محدود اور ہر قبیلے میں اتنے سورج ہیں کہ وہ بھی حد و شمار سے باہر سمجھتے اور یہ سارا پہلا آسمان ہے۔ہماری جو عملی سائنس ہے جہاں ٹیسٹ ہوتے ہیں یا ہماری دُور بینیں دیکھتی ہیں اُن کا تعلق تو پہلے آسمان سے ہے پنجابی کا ایک محاورہ ہے پھورنا۔وہ پھور یا بھی نہیں پوری طرح زمین لیکن خدا نے مجھے کہا آپ کو بھی کہا ہر شخص کو کہا مخاطب کر کے کہ تم تھوڑا سا علم پہلے آسمان کا حاصل کر کے میرے خلاف کھڑے ہو جاتے اباء اور استکبار کرتے ہو۔اعلان کر دیتے ہو کہ ہم