خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 409

خطابات ناصر جلد دوم ۴۰۹ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے اُس کے وجود کو مٹا دیں گے۔تم تو اس کی انتہاء بھی نہیں جانتے اور یہ تو پہلا آسمان ہے جو دوسرا ، تیسرا ، چوتھا ، پانچواں ، چھٹا اور ساتواں آسمان ہے اُس کے جوڑ و حانی پہلو ہیں اُن کے متعلق قرآن کریم میں ، احادیث میں کچھ ذکر آتا ہے۔جو اُس کے مادی پہلو ہیں۔اثرات۔کیا اثر اُن کے ہو رہے ہیں وہ ابھی محض تھیوری ہے خدا کرے ہمیں پانچ دس ایسے سائنس دان بھی مل جائیں جو ڈاکٹر سلام صاحب کی طرح اپنے ڈیسک پر بیٹھ کر دوسرے تیسرے آسمان کے متعلق تھیوریز بنایا کریں۔فارمولے۔جو آج سے پچاس سال بعد یا سو سال بعد یا ڈیڑھ سو سال کے بعد انسان کی عملی تحقیق جب وہاں پہنچتے تو حیران ہو کہ ڈیڑھ سو سال پہلے ایک احمدی کے دماغ کو خدا تعالیٰ نے وہاں تک پہنچا دیا تھا اور آج ہم وہاں پہنچ رہے ہیں۔ہمارے سیکھنے کا بڑا علم ہے پھیلا ہوا اس دُنیا اور کائنات میں۔بہر حال یہ کتابوں کے ذکر کے ساتھ علم کا ذکر آیا اور علم کے ذکر کے ساتھ اس وعدہ اور بشارت کا ذکر آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان پہنچاننے والوں کے علوم وتحقیق میں برکت ڈالی جائے گی اور وہ اپنے اپنے میدان میں اُس جگہ پہنچیں گے کہ دوسروں کا منہ بند کرنے والے ہوں گے۔اُس کا ایک پہلو آ گیا سامنے کل کو ایک دوسرا آ جائے گا پھر تیسرا آ جائے گا۔دروازہ کھل گیا اب آگے ہی آگے چلیں گے انشاء اللہ تعالی۔پھر میں نے اسی سلسلہ میں اپنی دو خواہشات کا ذکر کر دیا اور دعاؤں کا ذکر کر دیا وہ آپ کریں ہم آپ کو یاد دلاتے رہیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ آج کے لئے جو میں نے بتایا نا فضل تو بڑے ہیں۔تھوڑے سے نوٹ کئے ہیں وہ بھی چوہتر صفحوں پہ تھے تو دو ایک میں سے گزروں گا میں انشاء اللہ۔اچھا اب ہم ماڈی ضرورتیں جو ہیں ان کو لیتے ہیں بات یہ ہے کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ہمارے کارکن جو ہیں وہ بڑی قربانی دے رہے ہیں۔بعض قربانی سمجھ کے دے رہے ہیں بعض تکلیف محسوس کرتے ہوئے پھنسے ہوئے ہیں۔بعض بشاشت رکھتے ہیں۔کہتے ہیں خدا تعالیٰ ہمیں جزا دے گا۔بعض تنگ آئے ہوئے ہیں ہم سب۔اُن کو تو میں کہا کرتا ہوں۔