خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 402

خطابات ناصر جلد دوم دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء سے محمد زندہ باد صلی اللہ علیہ وسلم۔” خاتم النبیین زندہ باد انسانوں کی نسبت سے دُوسرا نعرہ یہ ہوگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق کرنے والا اور اس زمانہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کو دُنیا میں تقسیم کرنے والا مسیح موعود (علیہ السلام) زنده باد ( مسیح موعود علیہ السلام زندہ باد کے نعرے) اور ایک تیسرے پہلو کے لحاظ سے وہ تعلیم جو انسانی دماغ میں جلا پیدا کرتی اور ظلمات کو مٹا کے اُن کی جگہ نو ر کو قائم کرتی ہے اسلام زندہ باد (نعرے) اور چوتھے پہلو کے لحاظ سے سب سے بڑا نعرہ اور سب سے بنیادی نعرہ اللہ جو خالق اور مالک ہے اور جو حاکم کل ہے " اللہ اکبر“ ( نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے ) اور۔اور۔اور۔اور۔اور اور اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اور کوئی نعرہ نہیں (اور پانچویں بات یہ ہے کہ خاموشی سے اب میری باتیں سنو ) میں تعلیم کے متعلق باتیں کر رہا تھا کتابوں کے متعلق کہ پڑھنی چاہئیں لکھنی چاہئیں ( کچھ باتیں کہیں ) توجہ کریں۔آپ کی توجہ کے بغیر یعنی خریداروں کی توجہ کے بغیر نہ رسائل کا معیار بلند ہوسکتا ہے نہ رسالوں اور کتابوں کا معیار بلند ہوسکتا ہے۔اب ہم اسی سلسلہ میں جو دوسرا بڑا ہی اہم پہلو ہے اُسے لیتے ہیں وہ ذہن رسا ہے جو ماں کی گود میں خدا تعالیٰ کی رحمت سے آتا ہے پیدائش کے وقت ضائع کر دیا جاتا ہے یا سنبھال لیا جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی کہا اب بھی کہنے لگا ہوں اور کہتا رہوں گا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ کوئی ذہین بچہ خواہ وہ افریقہ کے جنگلات میں پیدا ہو یا نیو یارک کے محلات میں وہ ماسکو میں پیدا ہو یا خانہ کعبہ کے علاقہ میں پیدا ہو کوئی ذہین بچہ ( جو ذہن خدا کی عطا ہے ) ضائع نہیں ہونا چاہئے اور نوع انسانی کو اُس بچے کو اُس کے ذہن کو سنبھالنا چاہئے۔یہ بنیادی حقیقت اور اصول ہے جو اسلام نے ہمیں بتایا اور جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے لیکن جماعت احمد یہ اس بنیادی اصول کو عملاً آج قائم نہیں کرسکتی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے۔جتنا ہم سے ہو سکتا ہے ہم کرتے ہیں۔ایک وقت میں ہم سے یہ ہوا کہ جب ۱۹۴۴ء میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد پڑی۔(اُس وقت منصورہ بیگم بیمار تھیں حضرت صاحب نے ہم دونوں میاں بیوی کو بھیج دیا تھا د بلی علاج کے لئے میں وہاں تھا میری غیر حاضری میں ) مجھے پرنسپل مقرر کر دیا گیا۔