خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 294

خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۴ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر۱۹۷۷ء سارے دوسروں کا حق بھی مارا جاتا ہے۔قرآن کریم نے جب تفصیل میں ہم جائیں تو میں نے کہا ہر امر اور ہر نہی جو ہے کر بھی اور نہ کر بھی کاٹنے سے بھی بعض ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔لیکن بغیر ضرورت کے کسی درخت کو کاٹنا نہیں نقصان نہیں پہنچانا یعنی حلال ہے آپ نے اس کو ذبح کر کے کھانا ہے تو ذبح کا طریق۔جانور کے نقطہ نگاہ سے اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ایک سیکنڈ کے سویں حصے میں کوئی تکلیف ہوتی ہو۔فوری طور پر بے ہوشی طاری ہوتی ہے اس واسطے جو گھر کے جانور بغیر کسی تیر کے یا لاٹھی کے پکڑے جا سکتے ہیں۔حدیث میں منع ہے کہ پالتو جانوروں کو تیر سے شکار نہ کرو۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کس قدر ز بر دست یہ حق ایک زندہ کا قائم کیا گیا ہے کہ دس گز کے فاصلے پر ہے، کتنے سیکنڈ میں آپ وہاں پہنچ جائیں گے ذبح کرنے کے لئے لیکن یہ دس سیکنڈ بھی اس کو تکلیف نہیں دینی یہ اس کا حق ہے۔یہ تو تمہارا حق ہے کہ ایک بکرا ذبح کرو اور کھا جاؤ لیکن یہ تمہارا حق نہیں ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے بکرے کو دکھ پہنچاؤ اور تکلیف دو اس کو ، ذبح کرتے وقت اجر کے جو دوسرے ہیں ان سے کہو کہ ان کو پرے کر دو جن کو ذبح کرنا ہے وہ دیکھیں ان کو تکلیف نہ ہو یہ میں رب العالمین والے جلوؤں کی بات کر رہا ہوں یعنی جس میں نباتات بھی ، جمادات بھی ، حیوانات بھی انسان بھی آتے ہیں سارے، تو سارے قرآن میں کوئی شخص یہ نکال کے نہیں ہمیں دکھا سکتا کہ کہا ہو قرآن کریم نے کہ اس بات میں خدا تعالیٰ نے جو انسان کا کوئی حق قائم کیا ہے اس کو توڑنے کی ہمیں اجازت نہیں دی گئی کسی کو گالیاں دینے کی اجازت نہیں ، بُرا بھلا کہنے کی اجازت نہیں۔خدا تعالیٰ کے شریک بنانے والے جو سب سے بڑا ظلم انسان کر سکتا ہے ملوث ہو جاتا ہے اور شرک کرنے لگ جاتا ہے اور شرک بھی بت پرستی پتھر کو بنا کے یعنی نامعقول شرک جو ہے وہ کرتا ہے۔نا معقول یہ غلط نہیں۔حقیقت ہے عقل کے مطابق تو نہیں ہے نا وہ۔اور کہا لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ (الانعام : ۱۰۹) اچھا میں نے باہر بھی۔یہاں بھی کہتا ہوں کئی دفعہ کہ جو پتھر کا بت ہے کہا ہے کہ اس کو گالی نہ دو پتھر کے بت کے کان ہیں، وہ سنتا ہے، اس کے جذبات ہیں اسے کوئی تکلیف ہوتی ہے، نہیں، اس واسطے کہا کہ نہ دو کہ جو اس کی پرستش کرنے والے ہیں ان کے تو جذبات ہیں ان کے تو کان ہیں وہ تو سنتے ہیں ان کو تکلیف ہوگی۔شرک جیسے عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جو ان کے جذبات کی حفاظت کر دی کہ یہ نہیں کرنا۔