خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 295
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء قرآن کریم نے کی یعنی تفسیر میں نہیں، بعض چیزیں ہمیں قرآن کریم کی تفسیر میں ملتی ہیں قرآن کریم نے یہ اعلان کر دیا۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ ان تعلقات کو قائم رکھو جن کے قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ خدا کے جو رسول ہیں ان کے ساتھ تعلقات ہیں خود قرآنی ہدایت نے بتائے ہیں کہ اس قسم کا تعلق ہے جس میں اونچی آواز سے نہیں بات کرنی۔ملنے سے پہلے صدقہ دو۔بہت ساری اور ہدایتیں ہیں۔اطاعت کرو، فیصلہ سمجھ آئے نہ آئے بشاشت کے ساتھ اس کو قبول کرو اور رسول کی جو فراست ہے اور رسول کا جو فیصلہ ہے اس سے اچھا اپنا فیصلہ نہ سمجھو۔ملائکہ سے تعلق ہے وہ بتایا ہے کس قسم کا تعلق ہے ملائکہ ایک تعلق تو یہ ہے مثلاً ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ ( حق التجدة : ۳۱) یہ ایک تعلق بتایا گیا ہے ناں ملائکہ کے ساتھ اس واسطے یہ حکم دیا کہ استقامت کر تو دین کی راہ میں، اور ملائکہ تمہارے ساتھ باتیں کرنی شروع کر دیں گے آئے۔ایک تعلق جو ہے وہ قائم کیا گیا ہے خلفاء سے ، اولیاء سے، ابرار سے اور قومی نظام کے چلانے والے جو ہیں، انتظامیہ ان کے اپنے فرائض ہیں ان کو وہ ادا کرنے چاہئیں لیکن جو رعایا کے فرائض ہیں وہ یہی ہیں کہ جو نظام چلانے والے ہیں ان کے ساتھ تعلقات جو ہیں وہ درست ہونے چاہئیں۔رشتے دار ہیں، ہمسائے ہیں، غربا ہیں ، مساکین ہیں، مسافر ہیں، اہل وطن ہیں افراد انسانیت ہیں، حیوانات ہیں، کیڑے مکوڑے ہیں، نباتات ہیں، جمادات ہیں ہر ایک کے ساتھ تعلق کو قائم کیا گیا ہے اور حکم یہ ہے کہ یہ جو ان کے حقوق ہیں وہ تم نے توڑنے نہیں۔جو خدا تعالیٰ نے حق قائم کیا ہے وہ کسی کا حق غصب نہیں کرنا اور انسانوں میں سے مومن و کافر کی کوئی تمیز ہی نہیں یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تعلقات قائم رکھنے کا حکم دیا ہے اور وہ مومن ہیں ان سے تعلقات قائم رکھو۔اگر وہ مومن ہیں تو تعلقات رکھو یعنی حکم یہ ہے سارے انسانوں سے قائم کرو۔لیکن یہ نہیں کہا کہ اگر وہ مومن ہو تو کرو کا فر ہو تو نہ کر وحکم توڑ دو اور یہ خشیت باری کے خلاف نہیں ہے یہ نہیں کیا گیا۔پھر کہا گیا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران (۱۱) انسان کے مقام کے اوپر یہ کہا گیا کہ تم خیر امت ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت خیر امت ہے۔اور اس لئے خیر امت ہے کہ سارے دنیا کے انسانوں کے لئے بھلائی کا موجب یہ ہے ہر ایک کی خیر خواہ ہے ہر ایک کی