خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 293
خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۳ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ہم رنگ ہونے کے لئے جس قدر طاقتیں اور استعداد میں ضروری تھیں وہ انسان کو مہیا کر دیں۔اور چوتھی بات غالبا یہ کہ انسان کو صاحب اختیار بنایا وہ بھٹک بھی جاتا ہے اپنی غفلت یا گناہ یا اباء اور استکبار کے نتیجہ میں۔لیکن اس کو یہ کہا کہ تو مایوس نہ ہو تیرے اوپر اس زندگی میں کبھی بھی تو بہ کے اور خدا کی طرف واپس لوٹنے کے دروازے بند نہیں کئے جائیں گے اور تیری جسمانی بیماریاں ہوں یا روحانی ان کا علاج ہم نے پیدا کر دیا ہے اور ایک اور بات یہ نکلی اس میں سے کہ کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ کسی دوسرے انسان کو اس کی جسمانی بیماری کی حالت میں علاج کرنے سے روکے اور منع کرے اس کی دوائی اٹھا کے زمین پہ پھینک دے اسی طرح کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ دوسرے کی روحانی بیماری جو ہے اس کی اصلاح کے رستے میں روک پیدا ہوا اور یہ نکلا کہ خدا تعالیٰ کا جو قرب کا حصول ہے اسے خدا جانتا ہے یعنی جیسا کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ تم یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکتے کہ تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا بندہ بننا۔یہ انسان کا تو کام نہیں ہے نہ اپنی مرضی سے آیا یہاں نہ مرضی سے جائے گا۔اسی طرح کوئی انسان اپنے متعلق بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ ایک تندرست روح کی صورت میں مرنے کے بعد پیش ہوگا یہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کرنا ہے انسانوں کا کام ہی نہیں ہے یہ فیصلہ کرنا۔اور اگر کسی کی اپنی ضمیر اور فطرت اندر سے یہ پکارے کہ اے خدا کے بندے خدا کو بھول گیا ہے اس کی طرف واپس لوٹ اور وہ پھر قرآن کریم پر غور کرے اور اپنے بھلائی کے رستوں کو تلاش کرے اور اپنی روحانی بیماری جو ہے اس کا علاج کرنے کی کوشش کرے تو کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا ہاتھ پکڑے اور اس کو کہے کہ نہیں میں تیرا علاج نہیں ہونے دوں گا۔قرآن کریم پر بڑا غور کیا ہم نے ، ہمارے بزرگوں نے ہم سے بھی زیادہ کیا سارے قرآن کریم میں کوئی ایک جگہ نہیں ہے جہاں یہ لکھا ہو کہ کسی فرد یا گروہ کو اس کے خدا داد جو ہیں اس کے حقوق ان کو نہ دو اور محروم کر دو کوئی ایک حکم ایسا نہیں۔قرآن کریم کے جتنے اوامر اور نواہی ہیں وہ حکم یہ دیتے ہیں کہ دوسروں کی خیر خواہی کرو اور ان کے حقوق ادا کرو اور جو نواہی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے حقوق قائم ہیں ان میں رخنہ پیدا نہ کرو ان کو نہ توڑو ، یہ نہ کرو، یہ نہ کرو، یہ نہ کرو وہ ہے نا، نواہی ، نہ کر ، نہ کر ، جھوٹ نہ بول، جھوٹ بولنے سے انسان کے اپنے نفس کا حق بھی مارا جاتا ہے اور بہت