خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 289
خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۹ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اور کبھی پیدا ہو جائے اور خرابی پیدا ہو جائے۔اس عیب کو دور کرنے اور اس گناہ کو غفلت کے اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپنے کے سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دئے خَلَقَ فَسَوی میں یہ دونوں معنیٰ آتے ہیں کہ اس کو بڑی زبر دست قو تیں عطا کی ہیں اس مقصد کے حصول کے لئے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے رب سے زندہ تعلق قائم کرنے والا ہو اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر انسان خود ہی گناہ کرے اور اس کے اندر خرابی پیدا ہو جائے جسمانی طور پر بھی یا اخلاقی اور روحانی طور پہ بھی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ وہ اس کجی کو دور کر سکے اور پھر واپس آجائے اپنے بیج مقام کے اوپر اس سے یہ نتیجہ نکلا ایک تو یہ کہ انسان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ گناہ کرے۔دوسرا یہ کہ خدا تعالیٰ کو یہ پسند نہیں ہے کہ وہ گناہ کرے تیسرا یہ کہ خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے اور اس نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ گناہ کے بداثرات سے وہ محفوظ رہ جائے۔اور پھر اس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم ہو جائے۔جب خدا تعالیٰ نے انسان کو ، انسان کے لئے ، اس کی جو گناہوں کی سزا ہے اس سے بچنے کے اس زندگی میں سامان پیدا کئے ہیں تو کسی اور کو یہ اختیار نہیں پہنچتا کہ جو اصلاح کے لئے اسے زمانہ چاہئے تھا اس سے اس کو محروم کر دے۔یعنی یہ کہے کہ تو بہت گناہ گا رہے تیری گردن اڑا دیتے ہیں تو مارنا ہوگا تو آپ ہی خدا تعالی ماردے گا۔لیکن جب خدا تعالیٰ کسی کی جان نہیں لیتا وَ أُمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينَ (الاعراف: ۱۸۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو ایک مہلت دے رہا ہے تا کہ وہ ان اسباب باری سے فائدہ اٹھاسکیں جو ان کی اصلاح کے لئے اس نے جسمانی اصلاح کے لیے یا روحانی اصلاح کے لئے پیدا کئے۔جسمانی اصلاح کے لئے اس طرح کہ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء :۸۱) کہا : ہے خدا تعالیٰ نے ، قرآن کریم میں آیا ہے حضرت ابراہیم کی زبانی ، تو اس میں یہ بتایا گیا کہ انسان غلطی کر کے بیمار ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ نے صحت کے دو قوانین بنائے ہیں ان قوانین سے ذرہ بھر ادھر ادھر ہوئے بیمار ہو جاؤ گے پھر انسان سمجھتا ہے، پھر وہ دعا کرتا ہے پھر وہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کی طرف توجہ کرتا ہے۔پھر وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرتا ہے وہ دوائی دیتا ہے اور اگر وہ روحانی بیماری ہے یا اخلاقی بیماری ہے تو یہ ہم کیسے مان لیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی جسمانی بیماریوں کو دور کرنے کے لئے تو بے شمار لاکھوں نہیں بے شمار ادویہ پیدا کر دیں اس کائنات میں