خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 290 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 290

خطابات ناصر جلد دوم ۲۹۰ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۷ء لیکن اس کی روحانی بیماری کو دور کرنے کے لئے اس نے کوئی انتظام نہیں کیا۔یہ ماننے والی بات نہیں ، اس واسطے خدا تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا ہے کہ بیماری جسمانی ہوا خلاقی یا روحانی اس کو دور کرنے کے لئے اور صحت کو قائم کرنے کے لئے سامان مہیا کیا ہے۔یہ انسان کا کام ہے ان سامانوں سے فائدہ اٹھائے اور اپنی صحت کو قائم کرے اگر اخلاقی اور روحانی بیماریاں ہیں تو وہ دور ہو سکتی ہیں۔یہ زندگی۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر : ۵۴) کا اعلان کیا ہے قرآن کریم نے یہ تو نہیں کہا اگر یہ کہا جاتا نا کہ اگر تم گناہ گار ہو گئے تو میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گا تو لاکھوں آدمی ،صرف اس ایک اعلان کے ساتھ ہی ان کا دم فنا ہو جاتا کہ ہمارے لئے تو بہ کا دروازہ ہی کوئی نہیں ، ہم اس خدا کی طرف اس وقت جب کہ ہم نے اس کو پہچان لیا ہے کہ دوری اس سے جو ہے وہ عذاب ہے اس کی طرف ہم واپس جاہی نہیں سکتے تو خدا تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کئے اور کسی انسان کو یہ حق نہیں دیا کہ کسی دوسرے انسان کو جس طرح جسمانی بیماریوں کے علاج کے رستے میں روک نہیں بن سکتا وہ، اس کی اجازت نہیں اس کو دی گئی اسی طرح اخلاقی اور روحانی بیماریوں کے راستہ میں بھی وہ روک نہیں بن سکتا یعنی قانونا اور خدا تعالیٰ کی شریعت کے مطابق اس سے یہ ثابت ہوا یہ جو سامان پیدا کئے ہیں بھلائی کے اور تو بہ کے دروازے جو کھلے رکھے گئے ہیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ گناہ گار بنانا اللہ تعالی کی منشا نہیں ہے اس کائنات میں، یعنی یہ کہ کوئی شخص گناہ گار بن جائے یہ الہی منشا نہیں ہے۔الہی منشا یہ ہے کہ ہر انسان خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق رکھنے والا فرد ہو۔یہ منشا ہے خدا کا کہ خدا مل جائے ہر انسان کو خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا ہر انسان اپنی صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کرنے کے بعد اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہو۔یہ ہے خدا تعالیٰ کا منشاء، خدا تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے کہ کوئی ایک انسان بھی اس کی ناراضگی مول لے، ایک انسان بھی اس سے دور ہو جائے اور اس کے قرب کی راہیں اس کے اوپر بند ہو جائیں، اس کے اپنے گناہوں سے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔ورنہ اتنا بڑا کارخانہ روحانی طور پر لوگوں کو کم نظر آتا ہے۔اس واسطے جسمانی مثال خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں دے دی ہے۔یعنی اب تک لاکھوں دوائیوں کا پتہ لگ چکا ہے انسان کو ، اور ہر روز پتہ نہیں کتنی نئی نکال لیتے ہیں کئی لاکھ، چین نے ایک دفعہ سروے کروایا اپنے گاؤں میں بھیج کے کہ کون سی ادویہ کن کن امراض کے لئے ،