خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 288

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۸ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء رکھ کے جو اس نے بنائے ہیں خود ہی تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے۔اور چونکہ انسان نے بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھانا تھا یہاں اس واسطے کہا گیا کہ اعلیٰ جو ہے ربوبیت وہ اللہ تعالیٰ کی ہے بعض دوسروں کو تو اپنے محدود قوالی اور صلاحیتوں کے اندر ایک عکس ایک ظل رکھا ہوا ہے۔الَّذِي خَلَقَ فَسَوی ، سوی کے دو معنی لغت عربی نے کئے ہیں۔ایک یہ کہ درست اور اعتدال پر یعنی نہ دائیں جھکا ہوا نہ بائیں جھکا ہوا، بلکہ صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی طاقت رکھنے والا اور ترقی کا مادہ اپنے اندر رکھنے والا، بے عیب بنایا۔الَّذِي خَلَقَ فَسَوی یہاں انسان کا ویسے ذکر ہے کیونکہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى میں انسان کو مخاطب کیا گیا ہے نا۔تو انسان کو یعنی ویسے دوسروں کو بھی بنایا ہے لیکن یہاں انسان ہے کیونکہ یہ مضمون انسان کے ساتھ نہی تعلق رکھتا ہے۔انسان کو اعتدال بخشا اور اس میں ترقی کا مادہ پیدا کیا اور ترقی کرنے کے لئے اسے کامل طاقتیں عطا کیں۔اور استعداد میں موہبت کیں اور ہر قسم کے عیب اور کمزوری سے اسے پاک بنایا۔اور کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طاقتیں عطا کیں اور استعداد میں دیں اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس اعتدال پر قائم کیا اور ترقی کا مادہ اس کے اندر رکھا اس لئے ہر انسان کا یہ حق ٹھہرا کہ اس کی صلاحیتوں کی کامل نشو و نما کے لئے جن اشیاء اسباب اور حالات اور ماحول کی ضرورت ہے وہ اسے میسر ہو۔یہ ہر انسان کا حق ہے قرآن کریم نے یہاں یہ اعلان کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں بلکہ اگر ایسا کام کرے کوئی شخص تو یہ بڑا گناہ ہوگا کہ وہ انسانوں کو اس حق سے محروم کرے یعنی اس حق سے کہ وہ جسمانی طور پر، جو جسمانی قوی ہیں ان کو کمال نشو و نما تک پہنچائیں۔یا اپنی اخلاقی طاقتوں کو کمال نشو و نما تک پہنچائیں۔اس کے رستے میں وہ روک بنے اس کا کسی کا حق نہیں یا یہ کہ وہ اپنی روحانی طاقتوں کو کمال نشو ونما تک پہنچائے۔جسمانی اور روحانی طاقتیں جتنی بھی دی گئی ہیں ان کے کمال نشو ونما تک پہنچانے میں روک نہیں بنا بلکہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى ( المايدة : ٣) کے ماتحت کمال نشو و نما تک پہنچنے میں ان کی مدد کرنی ہے۔ان ہدایتوں کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کی ہیں۔دوسرے معنے خَلَقَ فَسَوی کے یہ ہیں کہ جب انسان اپنی ہی کسی غفلت یا گناہ کی وجہ سے عیب