خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 287

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۷ اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۷ء خوشحالی کی زندگی اس کو ملے اور اخروی زندگی میں بھی اس کو جنت ملے۔یعنی مقصد یہ ہے صاحب اختیار جب تک نہ ہوتا یہ مقصد نہیں مل سکتا تھا ، ظاہر ہے کیونکہ جب اس کو اس کی مرضی پہ نہ چھوڑا جائے اور یہ اختیار نہ دیا جائے کہ تیری مرضی تو نیکی کر ، تیری مرضی ہے تو گناہ کر ، اس وقت تک ثواب کا اور اچھی جزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آپ درختوں کو انعام تو نہیں دیا کرتے انسانوں کو دیتے ہیں کل علم انعامی یہاں مل گیا تھا حالانکہ دنیا میں بڑے اچھے اچھے درخت ہیں کسی کو انعام نہیں لیتا، یہ صاحب اختیار ہونا انسان کا یہ اس کو مستحق بناتا ہے کہ اگر نیکی کی راہوں کو وہ اختیار کرے گا تو ثواب اسے مل جائے گا خدا تعالیٰ کا پیارا سے مل جائے گا اور اس کو کہا یہ گیا ہے کہ پیدا تو تجھے ہم نے نیکیوں کے لئے کیا ہے لیکن تجھے اختیار دیتے ہیں کہ چاہے تو نیکی نہ کر پھر سزا اس کی بھگتنی پڑے گی جو نیک ہیں ما لک یوم الدین کی صفت کے نیچے آنے والے ہیں ان کو حکم خدا تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ تم اپنی صلاحیتوں کو کمال نشو ونما تک پہنچاؤ۔اور تم کسی دوسرے کو اس بات سے نہ روکو کہ اس کی صلاحیتیں اپنے کمال نشو و نما تک پہنچیں، منع کیا گیا ہے ہمیں۔یعنی کسی کو گناہ گار بنانے کی اجازت نہیں۔اس حد تک کہ ایک دفعہ رات کے وقت پردہ کا حکم اترنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک پاک زوجہ کے ساتھ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جارہے تھے۔وہاں بجلی کی روشنی تو نہیں تھی جھولے میں ایک صحابی نظر آئے تو رات کے وقت جارہے تھے آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کہیں شیطان اس کے دل میں وسوسہ نہ پیدا کرے اور آپ نے اس کو آواز دی اور کہا کہ دیکھ لو یہ وه میری بیوی ہے فلاں۔یعنی اس حد تک اس بات کی احتیاط رکھی گئی ہے۔ایک مسلمان کے لئے کہ دوسرے کو فتنہ اور ابتلاء میں نہ ڈالے۔اور جو نیک صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کے حصول کے لئے اس کو عطا کی ہیں ان کی ترقیات کے راستے میں روک نہ بنیں۔اختیار دیا گیا ہے لیکن نیک آدمی کو یہ کہا گیا ہے کہ ہر دوسرے کا تو نے خیال رکھنا ہے۔اور ایک اور جگہ قرآن کریم نے ایک اور رنگ میں زیادہ وضاحت کے ساتھ بعض چیزوں کو بیان کیا ہے اور وہ ہے سبح اسم رَبَّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدى (الاعلی :۲) اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جو ہے وہ کسی شعبہ میں بھی کسی قسم کا نقص اور کمی اپنے اندر نہیں رکھتی۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت ضرورت اور تدریج کے اصول کو سامنے