خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 286

خطابات ناصر جلد دوم ۲۸۶ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۷ء اپنی انتہا تک پہنچاؤ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے تم وارث بن جاؤ گے اس دنیا میں بھی تمہیں جنت ملے گی اور اُخروی دنیا میں بھی تمہیں جنت ملے گی۔چوتھی صفت یا چوتھا انعام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے مخلوق کو جس کا ذکر سورہ فاتحہ میں ہے وہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة :۴) میں بتایا گیا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف مومن کے ساتھ ہے۔اور کافر کے ساتھ یعنی اس معنی میں۔مومن کے ساتھ ہے۔سزا میں کا فربھی شامل ، یعنی سزا اور جزا جب ہم کہیں ، تو کافر کی روح کو بھی ، فاسق کی روح کو بھی ، خدا تعالیٰ سے دور جانے والے کی روح کو بھی ، خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے کی روح کو بھی ، ایک ہسپتال میں رکھا جائے گا مرنے کے بعد، اور کافی مناسب سخت علاج کے بعد خدا جانے کتنا عرصہ گزرنے کے بعد پھر وہ جب ان کے گناہ سب دھل جائیں گے اور داغ کوئی باقی نہیں رہے گا تب خدا تعالیٰ اپنی رضا کی جنتوں میں انہیں بھی لے جائے گا کیونکہ اصل پیدائش کی غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پیار کا تعلق انسان کا قائم ہو۔یہ جو گروہ ہے مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة :۴) جن کو خدا تعالیٰ نے مرنے کے بعد اپنے فضلوں سے نو از نا اور اپنی رحمتوں کی ہر آن ان پر بارش کرنی ہے یہ اپنی زندگی میں ان کو جو حکم ہے نا اس دنیا میں ان کو ، پھر اس کے نیچے بھی یہ ہے کہ تم نے انسان انسان میں فرق نہیں کرنا۔اس واسطے کہ جیسا کہ میں نے بتایا۔یہ بہت سارے جو جلوے خدا تعالیٰ کے ربوبیات کے سلسلے میں ہیں یہ قو تیں اور صلاحیتیں اور استعداد یں پیدا کرتی ہیں انسان میں ، اور یہ قوتیں اور صلاحیتیں اور استعداد میں اس لئے نہیں پیدا کی گئیں کہ انسان گمراہ ہو جائے بلکہ اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ انسان گمراہی سے بچے یہ اس لئے نہیں پیدا کی گئیں کہ انسان شیطان کا بندہ بن جائے یہ اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ انسان عباد الرحمن میں شامل ہو جائے اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا ایک تو یہ ہے نا کہ صاحب اختیار ہے انسان وہ اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا چاہتا ہے تو اور اقدامات کرتا ہے گناہ کرتا ہے بستیوں میں محو ہو جاتا ہے غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں اس کے اوپر ، وہ اور بات ہے لیکن جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان کا مقصد یہ ہے جیسا کہ ہم نے شروع میں دیکھا تھا عبد بننے کا کہ ساری صلاحیتیں اس لئے دی گئی ہیں انسان کو کہ اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ بنے اور اس کے فیوض سے وہ فیض حاصل کرنے والا ہو۔اور اس کی رحمتوں کا وارث بنے اس دنیا میں بھی خیر اور خوبی اور