خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 225
خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۵ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کون تمہیں روکتا ہے تمہاری طاقتیں ہیں تم ان کو استعمال کرو چنانچہ اس طرح ساری قوم کے لئے لاکھوں حرامزادوں کا ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔اسی طرح شراب خوری ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا تھا۔رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (المآيدة : ۹۱ ) شراب پینا ایک پلیدی ہے ایک نا پا کی ہے اور شیطانی عمل ہے اس لئے فرمایا فَاجْتَنِبُوهُ ( المآيدة : 91 ) اس کے قریب نہ جانا۔لیکن بڑے بڑے عقل والوں نے کہا کہ اس میں تو کوئی حرج نہیں۔چنانچہ ان کی اس سوچ کا جو نتیجہ نا۔وہ ساری دنیا جانتی ہے۔پہلے بھی اور اس دورے میں بھی مجھ سے پوچھا جاتا رہا کہ کیا وجہ ہے یورپی ممالک نکلا اتنا گناہ ہورہا ہے اور لوط کو قوم کی سزا مل گئی تھی ان کو خدا سزا ئیں کیوں نہیں دیتا۔تو میں نے سوچا اور قرآن کریم ہی نے مجھے یہ مسئلہ سمجھایا کہ لوط کی قوم کو تو سزا اس لئے ملی تھی کہ گنتی کے چند آدمی بھی وہاں نیک نہیں رہے تھے لیکن انگلستان میں لاکھوں ایسے آدمی موجود ہیں جو شراب نہیں پیتے۔ان کی فطرت نیک ہے وہ برائیاں نہیں کرتے۔وہ ہر وقت قوم کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اس لئے وہ الہی عذاب سے بچے ہونے ہیں کیونکہ مذہبی امور کی خلاف ورزی کرنے کی سزا تو آخرت میں ملتی ہے مذہبی رنگ کی جو بدیاں ہیں اور اسلام کے احکام کی جو خلاف ورزی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کی سزا انسان کو مرنے کے بعد دی جائے گی۔اس دنیا میں سزائیں اسی وقت ملتی ہیں جب ساری کی ساری قوم بلا استثناء خراب ہو جاتی ہے اور دنیا میں فساد پیدا ہو جاتا ہے تب دنیا کو فساد سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک روز ز بر دست جلوہ ظاہر ہوتا ہے لیکن ان ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں نیک بندے موجود ہیں جو ان قوموں کو عذاب سے بچائے ہوئے ہیں وہ نیکی کرنے والے اور بدیوں سے بچنے والے ہیں۔ان کے پاس اسلام نہیں اور وہ اخلاقی قدریں نہیں جو اسلام ہمیں بتاتا ہے۔یہ تو درست ہے لیکن وہ برائیاں جن کے نتیجہ میں پہلوں کو سزا ملی تھی جس قوم میں ان برائیوں سے بچنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہوں گے وہ عذاب سے بیچ جائے گی۔کیونکہ کہا یہ گیا تھا کہ اتنے نیک ہوں تو قوم بیچ جائے گی اور ان کو خدا تعالیٰ بچائے گا ان سے تو لاکھوں زیادہ ہیں اس لئے مغربی اقوام عذاب سے بچی ہوئی ہیں۔لیکن یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ہم یہ کہیں کہ کچھ حصہ نیک ہے تو بس کافی ہے اس دینا میں سزا سے بچنے کے لئے کافی ہے مگر یہ