خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 224 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 224

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۴ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء رکھا؟ کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بت پرستی کرائی؟ کس نے مورتوں کے آگے مرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا؟ کیا یہی عقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا۔اگر یہ کہو کہ عقل کا بگاڑ بھی نیم عاقلوں کا قصور ہے نہ عقل کامل کا قصور۔تو یہ قول صحیح نہیں۔ظاہر ہے کہ عقل اپنے اطلاق اور کلیت کے مرتبہ میں تو کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس مرتبہ میں وہ ایک کلی ہے اور کلی کا وجود بجز وجود افراد متفق نہیں ہوسکتا بلکہ کیفیت اس کی بذریعہ اس کے افراد کے معلوم ہوتی ہے۔لیکن ایسے فرد کامل کوکون دکھاسکتا ہے جس نے فقط عقل تابعدار ہو کر اپنے خود تراشیدہ عقائد میں کبھی غلطی نہیں کی۔الہیات کے بیان میں کبھی ٹھو کر نہیں کھائی۔ایسا عاقل کہاں ہے جس کا یقین وجود ضائع عالم اور جزا سزا وغیرہ امور معاد پر ہے کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہو جس کی توحید میں شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہی ہو۔جس کے جذبات نفسیانیہ پر رجوع الی اللہ غالب آ گیا ہو۔اور ہم ابھی اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ خود حکماء کا اقرار ہے کہ انسان مجرد عقل کے ذریعہ سے الہیات کے مسائل میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔“ ( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد اول صفحه ۱۶۱ تا ۱۶۵ حاشیہ نمبر ۱۱) اس مضمون میں جو میں نے اس وقت بیان کیا ہے میں یہ بات آپ کے دلوں میں گاڑنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم قرآن کریم پر پختہ پنجہ ماریں اور اس کی تعلیم کو سمجھنے والے ہوں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو بشارت ملی ہے نہ صرف یہ کہ وہ اسلام کے مخالفین کے حملوں کا دفاع کریں گے یعنی ان حملوں کا جو وہ علمی ، سائنسی اور فنی ایجادات کی صورت میں اسلام پر کرتے ہیں ان کا دفاع کریں گے بلکہ ان کو ایسا نور عطا کیا جائے گا۔قرآن کریم کے کامل الہام اور وحی کے نتیجہ میں کہ وہ لوگوں کے علوم ، ان کی عقلی کاوشوں اور ان کے عقل نتائج کا بودا پن ثابت کریں گے ان کی غلطیاں نکالیں گے۔ان کو بتائیں گے کہ دیکھو عقل تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتی رہی ہے کبھی کچھ اور کبھی کچھ کرتی رہی ہے کبھی تمہارے ایک حصہ کو بیمار کرتی ہے کبھی تمہارے دوسرے حصہ کو بدنام کرتی ہے۔کبھی تمہارے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کے نام پر تمہارے لئے نئے مسائل پیدا کر دیتی ہے کسی کی عقل نے بیچارے بچوں کو کہہ دیا کہ جنسی تعلقات میں تم آزاد ہو