خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 222

خطابات ناصر جلد دوم ۲۲۲ اختتامی خطاب ۱۲ر دسمبر ۱۹۷۶ء نے کہا آنکھ دیکھنے کی چیز ہے لیکن آنکھ کو یہ کہا گیا۔قُل لِلْمُؤْمِنتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ (النور (۳۲) اور دوسری طاقتیں استعمال کے لئے ہیں لیکن ان کے متعلق یہ کہا گیا وَ يَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ ( النور : ۳۲) وہ اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے زبان بولنے کے لئے ہے لیکن یہ نہیں کہ عقل نے کہا کہ فطرت نے ہمیں زبان بولنے کے لئے دی ہے تو پرور ہی بتا ہی جولوگوں کے منہ میں آئے وہ بکتے چلے جائیں۔قرآن کریم کہتا ہے یہ نہیں ہو گا۔وہ کہتا ہے قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا (الاحزاب : ١) تم ایسی بات منہ سے نکالو جو سدید ہو جس میں فساد کا کوئی شائبہ اور رمق نہ ہو۔اور یہ حکم صرف ایک چیز کے متعلق نہیں بلکہ خدا نے جو بھی طاقت اور قوت دی ہے وہ اس کا حساب لے گا۔یہ ایک اصولی ہدایت ہے جسے ہمیشہ یادرکھنا چاہیے۔عقل کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ جس قدر چاہے ان قوتوں اور طاقتوں کے گھوڑوں کو ایڑی لگا کر صحیح اور غلط راستوں پر دوڑاتی پھرے۔خدا تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن عظیم میں ہر قوت اور طاقت کو صیح راستہ دکھایا اور اس کو یہ کہا کہ دیکھو ہر طاقت اور قوت کا دینے والا بھی خدا ہی ہے اور حساب کرنے والا بھی وہی ہے تم اس کے حساب سے بچو اور خوف اور خشیت اپنے اندر پیدا کرو اور قرآن کریم کے سات سو کے لگ بھگ جو احکام ہیں ان کے اندران کے سایہ میں ان کی حفاظت میں اور ان کی امان میں اپنی قوتوں اور طاقتوں کو عقل کے بتائے طریقوں پر اور نو ر الہام کی روشنی میں آگے بڑھو تو تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے جسے انسان کے لئے ا کیا گیا ہے لیکن انسان اس کا خیال نہیں کرتا۔ایک اور اقتباس سن لیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔غرض کلام الہی کا یہ نہایت عمدہ کام ہے کہ جو جو طاقتیں اور قوتیں انسان کی فطرت میں ڈالی گئی ہیں کہ ان کو بطور اصلح اور انسب کے استعمال میں لانے کی تاکید کرے تا کوئی قوت اور طاقت جو عین حکمت اور مصلحت سے انسان کو عطا کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے یا بطور افراط یا تفریط کے استعمال میں نہ لائی جائے اور منجملہ ان سب طاقتوں کے ایک عقل بھی طاقت ہے کہ جس کی تکمیل شرف انسان کا ہے اور جس کے ٹھیک ٹھیک استعمال میں لانے سے انسان حقیقی طور پر انسان بنتا ہے اور اپنے کمال مطلوب کو پہنچتا ہے اور وہی ایک